۱؎ یہ ترجمہ بہت مناسب ہے۔فی سبیل اﷲ گھوڑے کی صفت ہے خرچ کے متعلق نہیں یعنی جو گھوڑا جہاد کے لیے پالا ہو اس پر خرچ کرنا بہتر ہے اور جو گھوڑا اپنی سواری وغیرہ کے لیے ہو وہ عیال میں داخل ہے یعنی بال بچے وغیرہ جن کی پرورش ہم پر لازم ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں دوستوں سے مراد سفرجہاد یا سفرِ حج کے ساتھی ہیں ان پر خرچ کرنا دوہرا ثواب ہے ساتھی سے سلوک اور حاجی یا غازی کی امداد۔خیال رہے کہ اس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ یہ تین خرچ دوسرے خرچوں سے افضل ہیں مگر ان تین میں سے کون دوسرے سے افضل ہے یہ پتہ نہ لگا کیونکہ واؤ جمع کے لیے آتا ہے ترتیب نہیں چاہتا لہذا ان میں سے ایک دوسرے کی افضَلیت موقعہ ومحل کے لحاظ سے ہوگی،اگر جہاد کی سخت ضرورت آپڑی ہے تو غازیوں پر خرچ افضل اور گھر والے بہت ہی ضرورت مند ہوں تو ان پر خرچ بہتر۔