Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
157 - 5479
حدیث نمبر 157
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اشرفی تو اﷲ کی راہ میں خرچ کرے ۱؎ اور جو اشرفی تو گردن آزاد کرنے میں خرچ کردے ۲؎ اور جو اشرفی تو کسی مسکین پر صدقہ کرے اور جو اشرفی تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ان سب میں زیادہ ثواب اس کا ہے جو تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں اﷲ تعالٰی کی راہ سے مراد حج و جہاد وغیرہ وہ مقامات ہیں جہاں کسی بندے کی رضا قطعًا مقصود نہ ہو۔

۲؎ اس میں مکاتب کی امداد،غلام کی آزادی،مقروض کو قرض سے آزاد کرانا،کسی مصیبت میں پھنسے ہوئے کو اس مصیبت سے نکالنا سب ہی داخل ہیں،نہایت جامع کلمہ ہے۔

۳؎ گھر والوں پر خرچ ان سب خیراتوں سے یا تو اس لیے بہتر ہے کہ وہ خیراتیں نفل تھیں اور یہ خرچ فرض ہے اکثر فرض نفل سے بہتر ہوتا ہے یا اس لیے کہ اس خرچ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی اہل قرابت کے حق کی ادائیگی اور دو نیکیاں ایک نیکی سے افضل ہیں اسی لیے بعض لوگ گیارھویں شریف وغیرہ کی شیرینی اکثر سیدوں کو دیتے ہیں کہ یہ حضرات اولاد رسول ہیں،اس میں خیرات بھی اور اولاد رسول کے حق کی ادائیگی بھی،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
Flag Counter