۱؎ یوں تو ہر صدقہ بہرحال اچھا ہے مگر کبھی بعض عارضی حالات میں بہت اچھا ہوجاتاہے خواہ خیرات دینے والے کی ہو یا لینے والے کی ہو یا مال کی جیسے تندرستی کی خیرات مرتے وقت کی خیرات سے بہتر ہے یوں ہی متقی پرہیزگار عیالدار کو خیرات دینا فاسق کو دینے سے بہتر،اسی طرح جس چیز کی اس وقت تنگی ہو اس کا صدقہ افضل ہے جہاں پانی کی تنگی ہو وہاں کنواں کھدوانا بہت باعث ثواب ہے۔اس باب میں ان تمام حالات کا ذکر ہوگا جن سے صدقہ بہت بہتر ہوجاتاہے۔
حدیث نمبر 155
روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور حکیم ابن حزام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو قوت غنا سے ہو ۱؎ اور ان سے ابتداءکرو جن کی تم پرورش کرتے ہو۲؎ (بخاری) اور مسلم نے صرف حکیم سے روایت کی۔
شرح
۱؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں لفظ ظہر زائد ہے جس کے کوئی معنے نہیں مگر حق یہ ہے کہ زائد نہیں بلکہ بمعنی قوت و غلبہ ہے یعنی صدقہ بہتر وہ ہے کہ صدقہ دینے والا صدقہ دے کر خود بھی خوب غنی رہے یا تو مال کا غنی رہے یعنی سب خیرات نہ کردے کہ کل کو خود اور اس کے بال بچے بھیک مانگتے پھریں۔غرضکہ صدقہ دے کر خود فقیر بھکاری نہ بن جاؤ یا دل کا غنی کہ سب کچھ دے کر بھی لوگوں سے بے نیاز رہے جیسے حضرت ابوبکر صدیق نے سب کچھ راہ خدا میں دے دیا کہ گھر میں کچھ نہ رکھا لہذا یہ حدیث صدیق اکبر کے اس عمل کے خلاف نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عوام مسلمین اصلی ضرورت سے زیادہ مال خیرات کریں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَسْـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ قُلِ الْعَفْوَ"عفو سے مراد ضرورت سے بچا مال اور خاص متوکلین کل مال بھی لٹا سکتے ہیں،یہ حدیث دونوں کو شامل ہے۔ ۲؎ یعنی اپنا مال پہلے اپنے پر،پھر اپنے بال بچوں پر،پھر غریب قرابت والوں پر،پھر دوسروں پر خرچ کرو،چونکہ مؤمن کو ان سب خرچوں میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خرچوں کو صدقہ میں شامل فرمایا۔سبحان اﷲ!کیسی پیاری ترتیب ہے اور کیسی نفیس تعلیم اہل قرابت کو صدقہ دینے میں صدقہ کا بھی ثواب ہے اور قرابت ادا کرنے کا بھی جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔