| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں عرض کیا ابوذر نے یا نبی اﷲ فرمایئے تو صدقہ کا درجہ کیا ہے فرمایا وہ چند درچند(دونادون)ہے اور اﷲ کے ہاں زیادتی علاوہ ہے ۱؎
شرح
۱؎ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ صدقہ کی برکتیں دنیا میں تو چند در چند ہیں اور کل قیامت میں جو زیادتیاں ہوں گی وہ ہمارے حساب سے وراء ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ"۔تجربہ بھی ہے کہ صدقہ سے مال بہت بڑھتا ہے۔دوسرے یہ کہ قیامت میں صدقہ کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہے اور جو زیادتیاں رب عطا فرمائے گا وہ حساب سے زیادہ ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔