۱؎ یعنی محرم کی دسویں۱۰ تاریخ کو اپنے بال بچوں،نوکر خادموں،فقراء مساکین کے لیے مختلف قسم کے کھانے تیار کرے تو ان شاءاﷲ تعالٰی سال بھر تک ان کھانوں میں برکت ہوگی،مسلمان عاشورہ کے دن حلیم پکاتے ہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ حلیم میں ہر کھانا ہوتا ہے،گندم گوشت اور دالیں چاول وغیرہ تو ان شا ء اﷲ حلیم پکانے والے کے گھر ان تمام کھانوں میں برکت ہوگی۔
۲؎ یعنی سفیان فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے تجربہ میں آئی ہے واقعی اس عمل سے برکت ہوتی ہے لہذا یہ حدیث قوی ہے۔خیال رہے کہ تجربہ سے بھی حدیث کو تقویت پہنچتی ہے اس لیے محدثین حدیث کی توثیق کے لیے کبھی اپنے تجربہ کا ذکر کردیتے ہیں،یہاں بھی ایسا ہی ہے اس کی بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھئے۔خیال رہے کہ عاشورہ کے دن خود روزہ رکھو اور بچوں کو فقراء کو خوب کھلاؤ پلاؤ لہذا یہ حدیث عاشورہ کے روزہ کے خلاف نہیں۔