۱؎ آپ کی کنیت ابوالخیر ہے،قبیلہ مزینہ سے ہیں،مصر کے رہنے والے تابعین میں سے ہیں،اپنے زمانہ کے مفتی اعظم تھےحتی کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز آپ سے فتویٰ لیتے تھے،حضرت ابن عمر،ابو ایوب عقبہ ابن عامر صحابہ سے ملاقات ہے۔
۲؎ یعنی مؤمن کے صدقہ و خیرات خصوصًا فی سبیل اﷲ مسافر خانے،مسجدیں بنانا اور باغات لگانا وغیرہ کل قیامت میں درخت سایہ دار کی شکل میں نمودار ہوں گے جن کے سایہ میں سخی ہوگا اور قیامت کی گرمی سے محفوظ رہے گا کیونکہ دنیا میں غرباء،فقراء کو اس نے سایہ کرم میں رکھا تھا،حدیث بالکل ظاہری معنے پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں وہاں مال بلکہ اعمال کی مختلف شکلیں ہوں گی:بخیل کا مال گنجے سانپ کی شکل میں،سخی کا مال درخت سایہ دار کی صورت میں نمودار ہوگا۔آج دنیا میں ہم خواب میں ان چیزوں کو مختلف صورتوں میں دیکھتے ہیں،بادشاہ مصر نے قحط کے سال،خشک بال اور دبلی گایوں کی شکل میں دیکھے تھے۔(قرآن کریم)