روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسلمان اپنے ہر مال سے جوڑا اﷲ کی راہ میں خیرات نہیں کرتا ۱؎ مگر جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے ان میں سے ہر ایک اس کی طرف بلائے گا جو اس کے پاس ہے ۲؎ میں نے عرض کیا یہ کیسے کرے فرمایا اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے اور اگر گائیں ہوں تو دو گائے دے ۳؎(نسائی)
شرح
۱؎ بعض لوگ فقیر کو کپڑوں کا جوڑا اور جوتا بھی دیتے ہیں نیز روپیہ پیسہ خیرات کرتے ہیں تو کم از کم دو۔ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،حدیث بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ ۲؎ یعنی جنت کے ہر دروازہ پر اس کی پکار پڑے گی کہ ادھر سے آؤ۔یہ اظہار عزت کے لیے ہوگا یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق کی فوج ہوں گے وہ اس جماعت کے سردار اعلیٰ رضی اللہ عنہ"یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمٰمِہِمْ"۔ ۳؎ اس شرح نے بتادیا کہ حدیث میں ایک جنس کی دو نوعیتیں مراد نہیں،یعنی روٹی و پانی،جوتا و ٹوپی بلکہ ایک نوع کی دو فردیں مراد ہیں یعنی پیسہ خیرات کرو تو دو روپے ہوں،کپڑے ہوں تو دو۔