Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
149 - 5479
حدیث نمبر 149
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب اﷲ نے زمین کو پیدا کیا تو زمین ہلنے لگی ۱؎ تو پہاڑوں کو پیدا فرمایا تو انہیں زمین میں گاڑ دیا تو زمین ٹھہر گئی ۲؎ تو فرشتوں نے پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب کیا بولے الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہے۳؎ فرمایا ہاں لوہا ہے ۴؎ عرض کیا یا الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں آگ ہے ۵؎ عرض کیا مولے کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز آگ سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں پانی ہے ۶؎ بولے یا الٰہ العالمین کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پانی سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں ہوا ہے ۷؎ بولے اے پروردگار کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز ہوا سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں وہ انسان جو داہنے ہاتھ سے خیرات کرے جسے بائیں ہاتھ سے چھپالے ۸؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور حضرت معاذ کی یہ حدیث کہ صدقہ خطائیں مٹا دیتا ہے کتاب الایمان میں ذکر ہوچکی۔
شرح
۱؎ جیسے ہلکی کشتی و جہاز پانی پر ہلتا ہے اسی طرح زمین ہلتی تھی فرشتوں نے گمان کیا کہ اس سے لوگ نفع نہ اٹھا سکیں گے۔

۲؎  مرقات نے فرمایا کہ پہلے ابوقبیس پہاڑ پیدا ہوا پھر دوسرے پہاڑ،ان پہاڑوں سے زمین ایسی ٹھہر گئی جیسے جہاز میں وزن لاد دینے سے دریا پر ٹھہرجاتا ہے جنبش نہیں کرتا۔قال قول سے بنا،بمعنی گاڑ دینا،پہاڑ زمین میں ایسے گڑھے ہیں جیسے زمین میں مضبوط درخت کہ پہاڑوں کی جڑیں دور تک پھیلی ہوتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاَلْقٰی فِی الۡاَرْضِ رَوٰسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمْ"۔بعض شراح نے فرمایا کہ یہاں قال کہنے ہی کے معنے میں ہے یعنی پہاڑ پیدا فرماکر زمین سے فرمایا ٹھہر گئی،یعنی زمین کا ٹھہرنا کُنْ فرمانے سے ہے پہاڑ محض سبب ہیں مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ 

۳؎ فرشتوں کو حیرت یہ ہوئی کہ پہاڑوں نے اتنی بڑی زمین کو اس طرح دبوچ لیا کہ اسے ہلنے نہیں دیتے تو ان سے سخت تر مخلوق کون سی ہوگی۔خیال رہے کہ پہاڑ زمین سے زیادہ وزنی نہیں مگر جیسے جہاز کا سامان جہاز کے وزن سے کہیں ہلکا ہوتا ہے مگر جہاز کو ہلنے نہیں دینا اسی طرح پہاڑ کا معاملہ ہے۔

۴؎ کیونکہ لوہا پہاڑ کو توڑ دیتا ہے پہاڑ لوہے کو نہیں توڑتا۔

۵؎  کہ آگ لوہے کو پگھلا دیتی ہے،بلکہ زیادہ تیز ہو تو لوہے کو گلا کر پانی بنادیتی ہے۔

۶؎ کہ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اگرچہ آگ پانی کو گرم بھی کردیتی ہے اور جلا بھی دیتی ہے مگر کسی برتن کی مدد سے جب کہ پانی اس میں بند ہو اگر آڑ ہٹا دی جائے تو پانی ہی آگ کو بجھاتا ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں پانی قید میں رہ کر جلتا ہے۔

۷؎ کیونکہ ہوا پانی سے لدے بادلوں کو اڑا ئے پھرتی ہے اور سمندر میں طلاطم پیدا کردیتی ہے جس سے وہاں طوفان برپا ہوجاتا ہے۔

۸؎ کیونکہ ایسا سخی اس سرکش نفس کو تابعدار کرلیتا ہے جو پہاڑ سے زیادہ سخت سمندر و ہوا سے زیادہ طوفانی ہے۔نفس اولًا تو بخل سکھاتا ہے جب سخاوت کی جائے تو دکھلاوے کو پسند کرتا ہے یہ خفیہ سخاوت کرنے والا نفس کی دونوں خواہشوں کو کچل دیتا ہے اور نفس کی آگ کو بجھا دیتا ہے لہذا بڑا بہادر ہے،نیز خفیہ صدقہ سے غضب الٰہی کی آگ بجھتی ہے،رضائے الٰہی حاصل ہوتی ہے،یہ نعمتیں پہاڑ،لوہے،آگ،پانی،ہوا سے حاصل نہیں ہوسکتیں لہذا یہ صدقہ ان سب سے بہتر۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ سخاوت مال سے سخاوت حال افضل ہے اور سخاوت حال سے سخاوت کمال بہتر کہ سخاوت مال میں فقیر کی اسی زندگی کے دو ایک دن سنبھل جاتے ہیں مگر حال و کمال کی سخاوت سے ہم جیسے مسکینوں کے دونوں جہاں درست ہوجاتے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاقیامت لوگوں کے دین و دنیا سنبھال دیئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بڑے داتا ہیں جیسے زمین پہاڑوں سے ٹھہری ایسے ہی ہمارے دل کسی کی نگاہ کرم سے ٹھہر سکتے ہیں ورنہ دل کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔
Flag Counter