| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی تین شخصوں سے محبت کرتا ہے اور تین سے سخت ناراض ہے ۱؎ جن سے محبت کرتا ہے ایک تو وہ شخص ہے جو کسی قوم کے پاس پہنچا ۲؎ ان سے اﷲ کے نام پر کچھ مانگا اپنی آپس کی قرابت کی وجہ سے نہ مانگا ۳؎ لوگوں نے اسے منع کردیا تو ان ہی میں سے ایک شخص پیچھے ہٹا اسے چھپ کر کچھ دے دیا جس کا عطیہ اﷲ کے سواء اور اس دینے والے کے سواء کوئی نہیں جانتا ۴؎ اور ایک وہ قوم جو رات بھر چلتی رہی حتی کہ جب انہیں نیند ہر ماسوا سے پیاری ہوگئی تو سر رکھ کر سوگئے تو یہ کھڑے ہوکر میری خوشامد کرنے لگا اور میری آیات تلاوت کیں ۵؎ اور وہ شخص جو کسی لشکر میں تھا دشمن سے جنگ کی لوگ بھاگ پڑے تو یہ اپنا سینہ تان کر کھڑا ہوگیا حتی کہ قتل کردیا گیا یا اس کی وجہ سے فتح ہو گئی ۶؎ اور وہ تین جن سے اﷲ سخت ناراض ہے ایک بوڑھا زانی ۷؎ متکبر فقیر اور ظالم غنی ۸؎(ترمذی،نسائی)
شرح
۱؎ ان سے محبت کرنے کے معنے پہلے مذکور ہوگئے کہ خصوصی محبت مراد ہے،ناراضی سے بھی خصوصی ناراضی مراد ہے ورنہ رب تعالٰی تمام کفار اور فساق سے ناراض ہے لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ ۲؎ یہ پہنچنے والا اور مانگنے والا خدا کا محبوب نہیں محبوب تو وہ دینے والا ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے اس کے صدقہ کی اہمیت دکھانے کے لیے یہ پورا واقعہ بیان فرمایا۔(از لمعات) ۳؎ اگرچہ قرابت دار فقیر کو دینے میں دگنا ثواب ہے مگر یہاں اس سخی کا اس اجنبی فقیر کو خیرات دینا بہت ہی کامل ہوا کیونکہ یہاں سواء رضا ئے الٰہی کے اور کوئی چیز فقیر کی ممنونیت وغیرہ ملحوظ نہ تھی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ قرابت داروں کو خیرات دینا افضل ہے۔ ۴؎ اَعطَاہُ میں دو احتمال ہیں:ایک یہ کہ اس سے لینے والا فقیر مراد ہو۔دوسرے یہ کہ اس سے دینے والا سخی مراد ہو،دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اس سخی نے اپنا منہ چھپاکر یا اندھیرے میں اس طرح دیا کہ فقیر کو بھی پتہ نہ چلا کہ کون دے گیا،چونکہ اس شخص نے صدقہ بھی دیا،اس قوم کی مخالفت بھی کی اور فقیر کی ٹوٹی آس بھی پوری کی اس لیے یہ خدا کا زیادہ پیارا ہوا۔ ۵؎ عرب میں عمومًا رات میں سفر ہوتا ہے اورتھکن اتارنے کے لیے مسافر آخر رات میں آرام کرلیتے ہیں، چونکہ اس تہجد خواں نے تین بہادریاں کیں اس لیے یہ خدا تعالٰی کو زیادہ محبوب ہوا(۱)ایسی حالت میں نیند پر عبادت کو ترجیح دینا(۲)سب کو سوتا دیکھ کر بھی نہ سونا،عابدوں میں عبادت آسان ہے غافلوں میں مشکل (۳)اور تہجد کی نماز۔تملق ملق سے بنا،بمعنی دوستی و نرمی،ناجائز نرمی کا نام چاپلوسی ہے اور جائز نرمی کا نام خوشامد نیاز مندی وغیرہ،یہاں دوسرے معنے۔صوفیا ء کرام فرماتے ہیں کہ یہ خوشامد اصل عرفان اور بندے و رب تعالٰی ٰکے درمیان خاص تعلق کا باعث ،یہ حال قال سے وراء ہے۔ ۶؎ اس طرح کہ اس اکیلے کی جرأت ہمت دیکھ کر بھاگنے والوں میں دلیری پیدا ہوئی پلٹ پڑے اور جم کر لڑے جیساکہ غزوہ حنین میں ہو ا کہ اس دن سارے غازیوں کے قدم اکھڑ گئے تھا ،سید الاشجعین صلی اللہ علیہ وسلم میدان میں جمے رہے پھر وہی صحابہ پلٹ پڑے جم کر لڑے اور میدان جیت لیا رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ ۷؎ ظاہر یہ ہے کہ شیخ بمعنی بوڑھا ہے نہ کہ شادی شدہ جوان ،چونکہ بڑھاپے میں مو ت قریب نظر آتی ہے ،شہوانی قوتیں کمزور ہو جاتی ہیں ،بوڑھا بہت تکلف ہی سے صحبت کرسکتا ہے اس لیے اس کا زنا انتہائی خباثت کی دلیل ہےکہ اسے نہ موت کا خوف نہ اﷲ رسول کی شرم۔ ۷؎ اگرچہ ہرتکبر برا ہے مگر فقیر کا تکبر زیادہ برا کہ اس کے پاس اس کے اسباب نہیں ہیں محض شیطان کے دھوکے سے اپنے کو بڑا جانتا ہے۔خیال رہے کہ تکبر،استغناء اور تعفف میں بڑا فرق ہے اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانناتکبر ہے اور اپنے کو ان سے بے نیاز سمجھنا صرف اﷲ رسول ہی کا محتاج جاننا بہت اعلیٰ وصف ہے اسی کو استغناء وغیرہ کہتے ہیں،اس کو اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے یوں بیان فرمایاہے۔شعر تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں کون نظروں میں جچے دیکھ کے تلوا تیرا ع کیوں نہ وہ بے نیاز ہو تجھ سے جسے نیاز ہو۔ مرقات نے فرمایا کہ کفار اور متکبروں کے مقابلے میں تکبر کرنا عبادت ہے۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضرت بشیر ابن حارث نے امیر المؤمنین حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا عرض کیا مجھے کچھ نصیحت کیجئے،فرمایا کہ امیروں کا فقیروں پر مہربانی کرنا بہت اچھا ہے مگر فقیروں کا خدا پر توکل کرکے امیروں سے تکبر کرنا اس سے بھی اچھا۔اس فقیر متکبر میں وہ جاہل بھی داخل ہیں جو علماء کو حقیر سمجھیں کہ وہ علم کے فقیر ہیں۔ ۸؎ اپنے نفس پر ظالم کہ نعمتوں کا شکر نہیں کرتا اور مخلوق پر ظالم کہ انہیں بجائے نفع پہنچانے کے ستاتا ہے، چونکہ ان لوگوں کے جرم سخت ہیں لہذا اﷲ تعالٰی ان سے سخت ناراض۔