Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
147 - 5479
حدیث نمبر 147
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے وہ اسے مرفوع کرتے ہیں فرمایا تین شخصوں سے اﷲ محبت کرتا ہے ۱؎ ایک وہ جو رات کو اٹھ کر قرآن پڑھے ۲؎ دوسرا وہ جو اپنے داہنے ہاتھ سے خیرات کرے اور اسے چھپائے مجھے خیال ہے کہ فرمایا اپنے بائیں ہاتھ سے۳؎ تیسرا وہ جوکسی لشکر میں تھا کہ اس کے ساتھی بھاگ گئے تو یہ دشمن کے مقابل رہا ۴؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غیرمحفوظ ہے اس کے ایک راوی ابوبکر ابن عیاش ہیں جو بہت غلطیاں کرتے ہیں ۵؎
شرح
۱؎ خاص نوعیت کی محبت ورنہ عمومی محبت تو اﷲ تعالٰی ہر مؤمن سے کرتا ہے،بعض کا مقابل صحابہ کرام سے اور قسم کی محبت فرماتاہے اور مختلف قسم کے شخصوں سے اور اقسام کی محبت،یہ ہی حال رضائے الٰہی کا ہے۔رب تعالٰی کی محبت خاص کی یہ علامت ہے کہ اسے نیک اعمال کی توفیق بخشتا ہے اور گناہوں سے بچاتا ہے اﷲ ہم سب کو نصیب کرے۔

۲؎ یا نماز تہجد میں یا ویسے ہی علاوہ نماز کے۔معلوم ہوا کہ آخر رات کی تلاوت ونماز بہت اعلیٰ ہے کہ اس میں ریاء کا شائبہ نہیں۔اس میں وہ حفظ قرآن والے طلباء بھی شامل ہیں جو آخر شب میں قرآن پاک یاد کریں۔

۳؎  یہ چھپانے کے مبالغہ کے لیے ہے یعنی وہ اپنے زن و فرزند اور خاص دوستوں سے بھی اس صدقہ کا ذکر نہیں کرتا تاکہ ریاء کا شائبہ بھی نہ پیدا ہوجائے۔خیال رہے کہ صدقہ فرض اکثر ظاہر کرکے دینا افضل ہے تاکہ فسق کی تہمت سے بچے اور صدقہ نفل اکثر چھپا کردینا بہتر،ہاں چندہ وغیرہ پر صدقہ کا اعلان تاکہ دوسروں کو بھی دینے کی رغبت ہو بہتر ہے،مختلف حالات کے مختلف احکام ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ وَ اِن تُخْفُوۡہَا وَتُؤْتُوۡہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔

۴؎ اپنی فوج کے بھاگ جانے پر اور خود اکیلے رہ جانے پر دشمن کے مقابل ڈٹ جاتا گویا اپنی موت کو دعوت دینا ہے مگر چونکہ کلمۃ اﷲ بلند کرنے کے لیے مرجانا بھی عبادت ہے اس لیے یہ غازی اﷲ کا بڑا محبوب بنا اور اس پر خودکشی کا الزام نہ آیا اگر بحالت جنگ یہ حدیث ہر غازی کے سامنے رہے تو ان شاءاﷲ اسلامی فوج کے قدم اکھڑ سکتے ہی نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ تینوں بندے مجاہد ہی ہیں اس لیے ان تینوں کے ایک ساتھ فضائل بیان کئے گئے۔ تہجد گزار اس وقت سونے والوں کی مخالفت کرتا ہے اور نفس امارہ کا مقابلہ کہ اس وقت نفس کو نیند پیاری ہوتی ہے اور اسے اﷲ کا ذکر پیارا اور سخی اپنے مال میں جہاد کرتا ہے اور اپنے نفس سے مقابلہ کہ نفس مال سے محبت کرتا ہے اور یہ خالقِ مال سے اور وہ ڈٹنے والا غازی تو ظاہر ظہور مجاہد ہے کہ اگر وہ غنیمت یا ناموری کے لیے گیا ہوتا تو ایسے نازک موقعہ پر میدان میں کبھی نہ ٹھہرتا۔

۵؎  یہ حضرت اپنے وقت کے امام تھے مگر حافظہ کمزور تھا اس لیے ضعیف ہیں مگر اسی مضمون کی احادیث اور اسنادوں سے بھی مروی ہیں جو اکثر صحیح ہیں جن میں سے کچھ فرق کے ساتھ ایک آگے بھی آرہی ہے،لہذا متن حدیث ضعیف نہیں۔(اشعۃ و مرقات)
Flag Counter