| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا نہیں پہناتا مگر جب تک اس کے بدن پر اس کا ایک چیتھڑا بھی رہے یہ اﷲ کی حفاظت میں رہتا ہے ۱؎(احمد،ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی جب تک فقیر کے جسم پر اس کپڑے کی ایک چیز باقی ہے تب تک اﷲ تعالٰی پہنانے والے کو آفات دنیاوی سے محفوظ رکھتا ہے کیونکہ صدقہ آفتوں سے بچانے میں بے مثال ہے یا مطلب یہ ہے کہ تب تک اﷲ اس کی عیب پوشی فرماتا رہتا ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے تو اﷲ اس کی عیب پوشی کرتا ہے،یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے۔یہ تو کپڑا پہنانے کا دنیاوی فائدہ ہوا اُخروی فائدہ تو ہمارے خیال سے وراء ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قدر صدقہ کی بقا اسی قدر اس کے فائدے کی بقا لہذا صدقہ جاریہ بہت ہی اعلیٰ ہے۔