Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
145 - 5479
حدیث نمبر 145
روایت ہے حضر ت عائشہ سے کہ اہل بیت نے بکری ذبح کی ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں سے کیا بچا وہ بولیں کہ کندھے کے سواء کچھ نہ بچا ۲؎ فرمایا کندھے کے سوا سب بچ گیا ۳؎ اور ترمذی نے اسے صحیح فرمایا۔
شرح
۱؎  بکری ذبح کرنے والے بعض صحابہ کرام تھے یا بعض ازواج پاک،دوسرے احتمال کو محدثین نے ترجیح دی ہے،چونکہ ازواج پاک کو اہلِ بیت بھی کہا جاتا ہے اور یہ لفظ مذکر ہے اس لیے جمع مذکر کا صیغہ ارشاد ہوا، فرشتوں نے بی بی سارا زوجہ ابراہیم علیہما السلام سے عرض کیا تھا"اَتَعْجَبِیۡنَ مِنْ اَمْرِ اللہِ رَحْمَتُ اللہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمْ اَہۡلَ الْبَیۡتِ"۔

۲؎ یعنی سارا گوشت خیرات کردیا گیا صرف شانہ بچا ہے غالبًا یہ گھر کے خرچ کے لیے رکھا گیا ہوگا اور یہ بکری صدقہ کے لیے ذبح نہ کی گئی ہوگی کہ صدقہ کا گوشت گھر کے خرچ کے لیے نہیں رکھا جاتا۔

۳؎  یعنی جو راہِ خدا میں صدقہ دے دیا گیا وہ باقی اور لازوال ہوگیا اور جو اپنے کھانے کے لیے رکھا گیا وہ ہضم ہوکر فنا ہوجائے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَا عِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہِ بَاقٍ"۔
Flag Counter