۱؎ یعنی اپنی محنت سے بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنادے وہ بہت ثواب کا مستحق ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے رزق کا انتظام ہے۔حکومتیں اپنے غیر آباد علاقے لوگوں کو مفت دیتی ہیں ان کا ٹیکس معاف کردیتی ہیں بلکہ ہزار ہا روپے سے آباد کرنے والوں کی امداد کرتی ہیں اسکا ماخذ یہی حدیث ہے اس کے بارے میں آئمہ کا اختلاف آئندہ بیان ہوگا۔
۲؎ اس کی بحث پہلے ہوچکی کہ کبھی بغیر ارادہ نیکی ہوجانے پر بھی ثواب مل جاتاہے۔عافیہ عفیٌ سے بنا،بمعنی طلب رزق،عافی رزق کا متلاشی اب جانوروں اور پرندوں کو کہتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ ثواب تب ملے گا جب کہ اس پر صبروشکر کیا جائے۔