۱؎ یعنی کسی کو دودھ کا جانور کچھ روز کے لیے عاریۃً دینا کہ وہ اس کا دودھ پی لے یا کسی حاجت مند کو کچھ روپیہ قرض دینا،نابینا یا ناواقف کو راستہ بتادینے کا ثواب غلام آزاد کرنے کے برابر ہے جب قرض دینے کا یہ ثواب ہوا تو خیرات دینے کا کتنا ہوگا خود سوچ لو اس لیے یہ حدیث صدقات کے باب میں لائے۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ کبھی قرض دینا صدقہ دینے سے بڑھ جاتاہے کیونکہ صدقہ تو غیرحاجت مند بھی لے لیتا ہے مگر قرض ضرورت مند ہی لیتا ہے اوراس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی معمولی نیکی کا ثواب بڑے سے بڑے کام سے بڑھ جاتا ہے،پیاسے کو ایک گھونٹ پانی پلاکر اس کی جان بچالینے کا ثواب سینکڑوں روپیہ خیرات کرنے سے زیادہ ہے اس لیے حدیث شریف میں ہے کہ قیامت میں نیکیوں کا ثواب بقدر عمل ملے گا۔