| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت بہیسہ ۱؎ سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ وہ کونسی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا پانی پھر عرض کیا یا نبی اﷲ اور کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا نمک ۲؎ عرض کیا یا نبی اﷲ اور کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا ہر اچھا کام کرنا تمہارے لیے بہتر ہے۳؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ صحیح یہ ہے کہ حضرت بہیسہ خود بھی صحابیہ ہیں مگر آپ کی احادیث بہت کم ہیں۔ ۲؎ یہاں جواز سے مراد شرعی جواز نہیں بلکہ عرفی جواز ہے یعنی مروت وغیرہ کہ ان چیزوں کا منع کرنا خلاف مروت ہے اور یہ بھی وہاں ہے جہاں پانی اور نمک کی خود مالک کو ضرورت نہ ہو ورنہ بعض وہ علاقے جہاں پانی کمیاب بلکہ نایاب ہے وہاں ضرورت کے وقت پانی نہ دینا نہ خلاف مروت ہے نہ گناہ یہی حال نمک کا ہے۔ ۳؎ یہ عام حکم ہے یعنی اس کی تفصیل کہاں تک بیان کی جائے جو نیکی بن پڑے کر گزرو وقت کی قدر کرو کہ ع گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ"۔شعر اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے میاں محمد بخش صاحب فرماتے ہیں۔ صدا نہ بلبل باغیں بولے سدا نہ باغ بہاراں صدا نہ حسن جوانی ماپے سدا نہ صحبت یاراں