Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
124 - 5479
حدیث نمبر 124
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر تسبیح میں صدقہ ہے اور ہر تکبیر میں صدقہ ہے اور ہر حمد میں صدقہ ہے اور ہر تہلیل میں صدقہ ہے ۱؎ اور بھلائی کا حکم دینے میں صدقہ ہے اور برائی سے روکنے میں صدقہ ہے ۲؎ اور ہر ایک کی حلال صحبت میں صدقہ ہے ۳؎  لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں اسے ثواب ملتا ہے فرمایا بتاؤ تو اگر یہ شہوت حرام میں خرچ کرتا تو اس پر گناہ ہوتا تو یوں ہی جب اسے حلال میں خرچ کرے گا تو اسے ثواب ملے گا ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی شان سے معلوم ہوا کہ جو کوئی سُبْحَانَ اﷲ یا اَﷲُ اَکْبَر یا اَلْحَمْدُﷲ یا لَا اِلٰہَ اِلَّااﷲ کسی طرح بھی کہے صدقہ نفلی کا ثواب پائے گا خواہ ذکراﷲ کی نیت سے کہے یا کسی حاجت کی لیے بطور وظیفہ یہ الفاظ پڑھے یا عجیب بات سن کر سبحان اﷲ وغیرہ کہے یا خوشخبری پاکر الحمدﷲ پڑھے۔بہرحال ثواب ملے گا کیونکہ اﷲ کا نام لینا بہرحال عبادت ہے،اگر کوئی شخص ٹھنڈک کے لیے اعضائے وضو دھوئے تب بھی وضو ہوجائے گا کہ اس سے نماز جائز ہوگی،اﷲ کا نام زبان کا وضو ہے۔شعر

چوں بیاید نام پاکش در وہاں			نے پلیدی ماندونے آں وہاں

۲؎ یعنی ہرتبلیغ میں خیرات کا ثواب ہے بلکہ اس کا ثواب پہلے ثوابوں سے زیادہ کہ اس میں ذکر اﷲ بھی ہے اور لوگوں کو فیض پہنچنا بھی۔قلمی تبلیغ صدقہ جاریہ ہے کہ جب تک لوگ اس کی کتاب سے دینی فائدہ اٹھائیں گے تب تک اسے ثواب ملتا رہے گا،یہ ایک کلمہ بہت جامع ہے۔

۳؎  بضع کے لغوی معنے ہیں ٹکڑا مگر اصطلاح میں شرمگاہ کو کہتے ہیں،یہاں مراد صحبت حلال ہے۔یہاں فی ارشاد فرماکر اس جانب اشارہ فرمایا گیا کہ صحبت بذات خود ثواب نہیں بلکہ چونکہ اس کے ضمن میں زوجین کی عفت حق زوجیت کی ادا نیک اولاد کی طلب ہے اور یہ ساری چیزیں عبادت ہیں اس لیے صحبت عبادات پر شامل ہے۔اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت دیکھو کہ پہلی چیزوں میں ب ارشاد ہوا تھا اور یہاں فی تاکہ پتہ لگے کہ وہ چیزیں بذات خود عبادت تھیں اور یہ صحبت عبادات پرمشتمل ہے۔(لمعات)مرقات نے یہاں فرمایا ظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال صحبت مطلقًا صدقہ ہے خواہ ان چیزوں کی نیت سے ہو یا نہ ہو۔

۴؎  یعنی بذات خود صحبت ثواب نہیں بلکہ شہوت کو حلال میں خرچ کرنا ثواب ہے جیسے عید کے دن یا رمضان کی سحریوں میں کھانا پینا بذات خود ثواب نہیں بلکہ ان وقتوں میں کھانا عبادت ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جب ہواء ھدی سے مل جائے تو زہد بن جاتی ہے اسی جانب قرآن کریم اشارہ فرمارہا ہے:"وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِ"۔سبحان اﷲ! ہواء ھدیٰ سے مل کر ایسی ہوتی ہے جیسے مکھن شہد سے مل کر۔(از مرقات)لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ بغیر نیت ثواب کیسا کہ نیت کی شرط عبادت محضہ میں ہے۔
Flag Counter