| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اولاد آدم میں ہر انسان تین سو ساٹھ جوڑوں پر پیدا کیا گیا ۱؎ تو جو اﷲ کی تکبیر کہے،اس کی حمد کرے،تہلیل کرے،تسبیح پڑھے،اﷲ سے معافی چاہے،لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹا یا ہڈی ہٹا دے یا اچھی بات کا حکم دے یا برائی سے منع کرے ان تین سو ساٹھ کی گنتی کے برابر تو وہ اس دن کی طرح چلے گا کہ اپنی جان کو آگ سے دور کرے گا ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ انسان کی اس لیے قید لگائی تاکہ اس سے فرشتے اور جنات نکل جائیں کہ نہ ان کے جسموں میں اتنے جوڑ ہیں نہ ان کے یہ احکام۔ہمارے یہ جوڑ انگلی کے پوروں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہیں اگر ان میں سے ایک جوڑ خراب ہوجائے تو زندگی دشوار ہوجائے،قدرت نے ہڈی کو ہڈی میں اس طرح پیوست کیا ہے کہ کواڑ کی چول کی طرح ہڈی گھومتی ہلتی ہے اس کے باوجود نہ گھستی ہے نہ خراب ہوتی ہے۔ ۲؎ سبحان اﷲ! کیسی جامع حدیث ہے جس میں عبادات معاملات اور ورد و وظیفہ سب ہی آگئے۔مرقات نے فرمایا کہ اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے ممانعت زبانی بھی ہوتی ہے دلی بھی اورعملی بھی۔عالم کا دینی وعظ زبانی تبلیغ ہے،دینی کتاب لکھ جانا قلمی تبلیغ کہ جب تک اس کتا ب کا فیض جاری ہے اس کا ثواب باقی اور لوگوں کے سامنے اچھے اعمال کرنا اور برے اعمال سے بچنا عملی تبلیغ ہے کہ جتنے لوگ اسے دیکھ کر نیک بنیں گے ان سب کا ثواب اسے ملے گا بلکہ روزانہ ملتا رہے گا اور اس کے جوڑوں کا شکریہ ادا ہوتا رہے گا۔اس حدیث کے آخری جملہ سے اشارۃً معلوم ہوتاہے کہ کبھی نفلی عبادت کے ترک پربھی پکڑ ہوجاتی ہے کیونکہ سرکار نے فرمایا جس دن اتنے کام کرلیے اس روز اپنے کو آگ سے دور کرلیا۔جو شخص دو رکعتیں اشراق کی پڑھ لے اس کے تمام جوڑوں کا شکریہ ادا ہوگیا جیساکہ کتاب الصلوۃ میں گزر چکا ہے۔