Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
122 - 5479
حدیث نمبر 122
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کے ہر جوڑ کے عوض ہر دن جس میں سورج چمکے اس پر صدقہ ہے ۱؎ دو کے درمیان انصاف کر دے یہ بھی صدقہ ہے اور کسی شخص کی اس کے گھوڑے پر مدد کر دے کہ اس پر اسے سوار کردے یا اس پر اس کا سامان چڑھا دے یہ بھی صدقہ ہے اور اچھی بات صدقہ ہے ۲؎ اور ہر وہ قدم جس سے نماز کی طرف جائے صدقہ ہے ۳؎ اور راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دے صدقہ ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  سُلامی  س کے پیش سے ہے جس کے لغوی معنے ہیں عضو،ہڈی اور جوڑ یہاں تیسرے معنے مراد ہیں۔انسان کے بدن میں ۳۶۰ جوڑ ہیں جیساکہ اگلی حدیث میں ہےاگرچہ ہمارا ہر رونگٹا اﷲ کی نعمت ہے لیکن ہر جوڑ اس کی بے شمار نعمتوں کا مظہر ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا شکریہ ضروری ہوا۔صدقہ سے مراد نیک عمل ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔یہاں بھی علیٰ لغوی لزوم کے لیے ہے نہ کہ شرعی وجوب کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص پر اخلاقًا دیانۃً لازم ہے کہ روزانہ ہر جوڑ کے عوض کم از کم ایک نفل نیکی کیا کرے اس حساب سے روزانہ تین سو ساٹھ نیکیاں کرنی چاہئیں تاکہ ا س دن جوڑوں کا شکریہ ادا ہو،سورج چمکنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سورج تو ہرشخص پر چمکتا ہے تو شکریہ بھی ہرشخص پر ہے۔

۲؎ یعنی تہذیب اخلاق،تدبیر منزل،سیاست مدنی،لوگوں سے اچھے برتاوے صدقہ ہیں بشرطیکہ رضائے الٰہی کے لیے ہوں،ہر معمولی سے معمولی کام جب ادائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو وہ بڑا ہوجائے گا کیونکہ منسوب اگرچہ چھوٹا ہے مگر منسوب الیہ جن کی طرف نسبت ہے صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو بڑے ہیں۔

۳؎  مرقات نے فرمایا کہ نماز کا ذکر مثالًا ہے ورنہ طواف،بیمار پرسی،جنازہ میں شرکت،علم دین کی طلب غرضکہ ہر نیکی کے لیے قدم ڈالنا صدقہ ہے۔

۴؎  یعنی رستہ سے کانٹا،ہڈی،اینٹ،پتھر،گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔
Flag Counter