Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
121 - 5479
حدیث نمبر 121
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر صدقہ ہے ۱؎ صحابہ نے عرض کیا کہ اگر نہ پائے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرے خود نفع اٹھائے اور خیرات کرے ۲؎ عرض کیا اگر یہ بھی نہ کرسکے یا نہ کرے فرمایا تو کسی مظلوم حاجت مند کی مدد کرے ۳؎ بولے اگر یہ بھی نہ کرے فرمایا تو اچھی بات کا حکم کرے۴؎  بولے اگر یہ بھی نہ کرے تو فرمایا کہ برائی سے بچے کہ اس کے لیے یہ ہی صدقہ ہے ۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں عَلیٰ وجوب کے لیے نہیں بلکہ ترغیب کے لیے ہے یعنی مسلمان کو چاہیئے  کہ شکر الٰہی کے لیے ان نفلی نیکیوں کو بھی اپنے پر لازم سمجھے اور روزانہ ان پر عمل کی کوشش کرے۔

۲؎ صحابہ کرام یہاں صدقہ سے مالی خیرات سمجھے تھے اس لیے انہیں یہ اشکال پیش آیا کہ بعض مسلمان مسکین مفلوک الحال ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے کھانے کو نہیں ہوتا وہ صدقہ کہاں سے کریں۔سرکار کے اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ مال کمانا بھی عبادت ہے کہ اس کی برکت سے انسان ہزار ہا گناہوں سے بچ جاتا ہے جیسے بھیک،چوری وغیرہ،نیز نکما آدمی اپنا وقت گناہوں میں خرچ کرنے لگتا ہے نفس کو حلال کاموں میں لگائے رہو تاکہ تمہیں حرام میں نہ پھنسادے۔

۳؎ ہاتھ پاؤں کی مدد جیسے بھولے کو راستہ بتادینا،پردہ نشین بیوگان کا باہر والا کام کردینا اس میں بھی ثواب ہے۔

۴؎  کہ اس میں نہ کچھ خرچ ہوتا ہے نہ ہاتھ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور مفت میں ثواب مل جاتا ہے کیونکہ تبلیغ عبادت ہے جس کا بڑا ثواب ہے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ ہرشخص کو احکام شرعیہ سیکھانا چاہئیں کیونکہ بغیر جانے دوسروں کو بتانا ناممکن ہوگا۔یہ بھی معلوم ہوا تبلیغ صرف علماء کا ہی کام نہیں جسے جو مسئلہ یاد ہو دوسرے کو بتادے۔

۵؎ برائی سے بچنے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ فساد کے زمانہ میں گھر میں گوشہ نشین بن جائےکہ نماز کے اوقات مسجد میں باقی گھر یا جنگل میں گزارے۔دوسرے یہ کہ بُری مجلسوں میں جائے مگر برائی کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کو برائی سے روکنے کے لیے کہ یہ بڑا جہاد ہے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ جیسے نیکیاں نہ کرنا گناہ ہے ایسے ہی گناہ نہ کرنا ثواب،نہ کرنے سے مراد بچنا ہے یعنی سلب عدولی نہ کہ سلب محض لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ہم ہر وقت خصوصًا سونے کی حالت میں لاکھوں گناہوں سے بچے رہتے ہیں تو چاہیئے  کہ ہمیں ہر سانس میں کروڑوں نیکیاں ملا کریں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی"۔یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔
Flag Counter