Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
110 - 5479
حدیث نمبر 110
روایت ہے حضرت عائشہ سے آپ فرماتی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مرض میں آپ کے میرے پاس چھ یا سات دینار تھے ۱؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بانٹ دینے کا حکم دیا لیکن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے مجھے اس کی فرصت نہ دی پھرحضور نے اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کہ ان چھ سات دینار کا تم نے کیا کیا اس نے عرض کیا اللہ کی قسم آپ کی بیماری نے مشغول رکھا آپ نے وہ منگایا اسے اپنے ہاتھ پر رکھا فرمایا کہ اﷲ کے نبی کا خیال ہے اﷲ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہو۲؎(احمد)
شرح
۱؎ آپ کے اپنی ملکیت کے جیساکہ لام سےمعلوم ہورہا ہے کہ صدقہ کرنے کی نیت سے رکھے ہوں یا خرچ کے ارادہ سے۔

۲؎ یعنی حضور سید الانبیاء کی شان عالی کے یہ لائق نہیں کہ گھر میں کچھ مملوک مال چھوڑ کر وفات پائیں دل میں اﷲ کا نور اور گھر میں اﷲ کا نام کافی ہے۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ صدیق اکبر نے حضور علیہ السلام کی میراث تقسیم نہ کی ظلم کیا،حضور علیہ السلام نے مال چھوڑا ہی کیا تھا جو رہنے کامکان تھا وہ بھی وقف ہوگیا،اس میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف بنادی گئی۔خیال رہے کہ یہ واقعہ حدیث ہے سنت نہیں ۔ سنت وہ واقعات ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعد فتح خیبر ازواج مطہرات کو ایک سال کا خرچ دے دیا کرتے تھے یا بعض صحابہ کو سب کچھ بلکہ آدھے مال کی خیرات سے منع فرمایا تہائی خیرات کی اجازت دی اور فرمایا اس سے کم خیرات کرنا بہتر ہے اپنے وارثوں کو غنی کرکے جاؤ۔شعر

موسیا آداب دانا دیگر اند			سوختہ جان درد انا ں دیگر اند

معلوم ہوا کہ حدیث و سنت میں بڑا فرق ہے۔
Flag Counter