| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن حارث سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ منورہ میں نماز عصر پڑھی آپ نے سلام پھیرا پھر تیزی سے کھڑے ہوئے ۱؎ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے بعض بیویوں کے حجرے میں تشریف لے گئے ۲؎ لوگ حضور کی جلدی سے گھبرا گئے پھر واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ آپ کی جلدی سے تعجب کررہے ہیں۳؎ فرمایا مجھے اپنے پاس سونے کا پترا یاد آگیا تو مجھے یہ ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے میں نے اس کے تقسیم کردینے کا حکم دے دیا ۴؎ بخاری کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ فرمایا میں نے گھر میں صدقہ کا پترا چھوڑا تھا تو رات کو اپنے گھر میں رکھنا ناپسند کیا ۵؎
شرح
۱؎ یعنی سلام پھیرتے ہی بغیر دعا مانگے بہت تیزی سے دولت خانہ میں تشریف لے گئے کیونکہ ابھی آپ کو واپس آکر دعا مانگنا تھا ورنہ بلا وجہ دعا کے بغیرمصلے سے چلاجانا نہیں چاہیے۔ ۲؎ معلوم ہوا کہ ضرورۃً لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے مسجد سے نکل جانا جائزہے جیسے اگر امام کا دوران نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے کو اپنا نائب مقرر کرکے گردنیں پھلانگتا ہوا ہی وضوء گاہ تک پہنچے گا۔جن احادیث میں گردنیں پھلانگنے کی ممانعت آئی ہے وہاں بلاضرورت پھلانگنا مراد ہے جیسے کوئی نماز کے لیے مسجد میں پیچھے پہنچے پھر لوگوں کو چیرتا ہوا اگلی صف میں جانے کی کوشش کرے یہ ممنوع ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ ۳؎ صحابہ کرام حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حال شریف کا بہت غور سے مطالعہ کرتے تھے اور ایسی معمولی جنبش پر دیوانہ وارگھبرا جاتے تھے،شروع مشکوٰۃ شریف میں آچکا کہ اگر سرکار خلاف معمول کبھی غائب ہوتے تو مدینہ منورہ کی گلیوں اور آس پاس کے جنگلوں میں ڈھونڈنے نکل پڑتے تھے،آج خلاف معمول جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر دعا مانگے جاتے دیکھا گھبرا گئے۔ ۴؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ سونے کا پترا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ملکیت تھا اور فوری ضرورت سے زیادہ تھا اس کا گھر میں رکھنا بھی ناپسند آیا فورًا خیرات کرادیا۔مشغول رکھنے میں دو احتمال ہیں:ایک یہ کہ اس کی وجہ سے نماز میں دھیان بٹے کہ اسے کہاں سنبھالیں کہاں رکھیں۔دوسرے یہ کہ رب تعالٰی سے قرب خاص میں یہ حارج ہو۔یہاں حضرت شیخ نے فرمایا کہ ماسوی اﷲ کی طرف التفات مقرب بندوں کو بھی مشغول کرلیتا ہے،یہ زہد اور ترک دنیا کی انتہا ہے کہ جو چیز یار سے آڑ بنے اسے پھاڑدو،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو فرزند کے گلے پر چھری چلادی،حضرت ادھم نے اپنے بیٹے ابراہیم کے لیے دعا کی خدایا اسے موت دیدے کہ اسے چومنے کی وجہ سے میں ایک آن تجھ سے غافل ہوگیا۔ ۵؎ اگر یہ وہی واقعہ ہے تب تو یہ روایت اس کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ سونا آپ کے اپنے خرچ کا نہ تھا زکوۃ کا تھا اور اگر دوسرا واقعہ ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کا مصرف پر جلد پہنچنا ضروری ہے۔