| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا فرمایا اے بلال یہ کیا عرض کیا کہ اسے میں نے کل کے لیے جمع کیا ہے فرمایا کیا تمہیں اس سے خوف نہیں کہ تم کل اس کے سبب دوزخ کی آگ میں بخار قیامت کے دن دیکھو ۱؎ اے بلال خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خطرہ نہ کرو۔
شرح
۱؎ اس میں حضرت بلال کو انتہائی تقویٰ اور ترک دنیا کی تعلیم ہے اور توکّل سے اعلیٰ توکّل کی طرف ترقی دیناہے یعنی اے بلال میں جس درجہ پر تمہیں پہنچانا چاہتا ہوں وہ جب ہی حاصل ہوگا جب کہ تم اپنے پاس اتنا بھی نہ رکھو تاکہ تمہیں قیامت کے دن اس کا حساب دینے میں کچھ بھی نہ ٹھہرنا پڑے یہی مطلب ہے دوزخ کے بخار دیکھنے کا،حضرت بلال اس وقت تن تنہا تھے،اہل وعیال نہ رکھتے تھے،آپ کے ذمہ کسی کے حقوق نہ تھے،فرمایا اکیلے دم کے لیے جمع کرنے کی فکر کیوں لگاتے ہیں رب ہمارے آستانے سے تمہیں دیئے جائے تم کھائے جاؤ۔صوفیائے کرام اپنے بعض مریدین کو کبھی چلوں سے مجاہدہ کراتے ہیں۔اس زمانہ میں ترک دنیا ترک حیوانات کامل کراتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے۔یہ حدیث جمع دنیا کے خلاف نہیں،اگر مال جمع کرنا حرام ہوتا تو اسلام کا ایک رکن یعنی زکوۃ ہی فوت ہوجاتی کہ زکوۃ واجب ہی جب ہوتی ہے جب مسلمان کے پاس ایک سال تک بقدر نصاب مال جمع رہے۔