Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
111 - 5479
حدیث نمبر 111
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا فرمایا اے بلال یہ کیا عرض کیا کہ اسے میں نے کل کے لیے جمع کیا ہے فرمایا کیا تمہیں اس سے خوف نہیں کہ تم کل اس کے سبب دوزخ کی آگ میں بخار قیامت کے دن دیکھو ۱؎ اے بلال خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خطرہ نہ کرو۔
شرح
۱؎ اس میں حضرت بلال کو انتہائی تقویٰ اور ترک دنیا کی تعلیم ہے اور توکّل سے اعلیٰ توکّل کی طرف ترقی دیناہے یعنی اے بلال میں جس درجہ پر تمہیں پہنچانا چاہتا ہوں وہ جب ہی حاصل ہوگا جب کہ تم اپنے پاس اتنا بھی نہ رکھو تاکہ تمہیں قیامت کے دن اس کا حساب دینے میں کچھ بھی نہ ٹھہرنا پڑے یہی مطلب ہے دوزخ کے بخار دیکھنے کا،حضرت بلال اس وقت تن تنہا تھے،اہل وعیال نہ رکھتے تھے،آپ کے ذمہ کسی کے حقوق نہ تھے،فرمایا اکیلے دم کے لیے جمع کرنے کی فکر کیوں لگاتے ہیں رب ہمارے آستانے سے تمہیں دیئے جائے تم کھائے جاؤ۔صوفیائے کرام اپنے بعض مریدین کو کبھی چلوں سے مجاہدہ کراتے ہیں۔اس زمانہ میں ترک دنیا ترک حیوانات کامل کراتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے۔یہ حدیث جمع دنیا کے خلاف نہیں،اگر مال جمع کرنا حرام ہوتا تو اسلام کا ایک رکن یعنی زکوۃ ہی فوت ہوجاتی کہ زکوۃ واجب ہی جب ہوتی ہے جب مسلمان کے پاس ایک سال تک بقدر نصاب مال جمع رہے۔
Flag Counter