| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عثمان کے غلام سے فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ کو گوشت کا پارچہ ہدیہ بھیجا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت مرغوب تھا تو انہوں نے خادم سے فرمایا ۱؎ کہ اسے گھر میں رکھ چھوڑو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھائیں خادمہ نے وہ طاق میں رکھ دیا ایک سائل آیا دروازہ پر کھڑا ہوا بولا اﷲ تمہیں برکت دے ۲؎ کچھ خیرات کرو گھر والوں نے کہا اﷲ تجھے برکت دے سائل چلا گیا۳؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا اے ام سلمہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو ہم کھائیں ۴؎ عرض کیا ہاں خادمہ سے بولیں جاؤ وہ گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاؤ وہ گئیں تو طاق میں پتھر کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہ پایا ۵؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ تم نے سائل کو گوشت نہ دیا اس لیے وہ گوشت کا پتھر بن گیا۶؎(بیہقی،دلائل النبوۃ)
شرح
۱؎ یہاں خادم سے مراد حضرت ام سلمہ کی لونڈی ہیں،خادم کا لفظ مرد و عورت دونوں پر بول دیا جاتاہے۔ پتہ نہیں لگا کہ یہ مولے عثمان کون ہیں اور یہ خادمہ کون تھیں مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں،کوئی ان میں فاسق نہیں اس لیے ان کے نام معلوم نہ ہونا صحت حدیث کے لیے مضر نہیں اور نہ اس سے حدیث مجہول ہو۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ سائل کا سوال کرتے وقت اہلِ خانہ کو دعائیں دینا بہتر ہے۔بعض بھکاری صرف دعائیں دیتے ہیں،بعض صرف اپنی محتاجی کا رونا روتے ہیں،بعض کو دیکھا گیا کہ صرف غزلیں اور قصیدے ہی پڑھتے ہیں ہاں بھیک کی نیت سے آیات قرآنیہ پڑھنا سخت ممنوع ہے،دیکھو شامی وغیرہ۔ ۳؎ عرب میں یہ دستور ہے کہ جب سائل کو منع کرنا ہوتا ہے تو کبھی کہہ دیتے ہیں"بَارَكَ اﷲُ فِیْكَ" اورکبھی کہہ دیتے ہیں اﷲ کریم اور کبھی کہتے ہیں"اَﷲُ یُغْنِیْكَ عَمَّنْ سِوَاہُ"جیسے ہمارے ہاں کہہ دیتے ہیں معافی دے یا برکت ہے وغیرہ۔غرضکہ سائل کو جھڑکنا نہیں چاہیے بلکہ نرم الفاظ سے اشارۃً کنایۃً منع کرنا چاہیے،جب وہ باز نہ آئے تو صاف صاف منع کرے کہ اب وہ سائل نہیں بلکہ اڑیل ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"سائل کو نہ جھڑکو۔ ۴؎ یعنی کچھ کھانا ہے جو ہم کھائیں،چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں کبھی کھانا ہوتا تھا کبھی نہیں اس لیے اس سوال کی نوبت آئی،نیز یہ سوال اگلے واقعہ کی تمہید ہے ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خبر رہتی تھی کہ گھر میں کچھ ہے یا نہیں کیوں نہ ہوحضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: "وَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُمْ"جو کچھ تم کھاتے اور گھروں میں بچاتے ہو میں تمہیں بتاسکتا ہوں۔یہاں کُمْ ضمیر جمع ارشاد ہوئی احترام کے لیے یا سب کچھ گھر والوں سے خطاب ہے۔ ۵؎ مروہ عربی میں چھوٹے یا سفید پتھر کو کہتے ہیں،اس پتھر کو بھی کہتے ہیں جس سے آگ نکلتی ہے یعنی چقماق۔خلاصہ یہ ہے کہ خادمہ نے طاق میں بجائے گوشت کے وہ پتھر دیکھا جس کی رگڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ ۶؎ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام باتوں کی خبر رہتی تھی جو آپ کے پیچھے گھروں میں ہوتے تھے،گھر والوں نے بھکاری کے آنے جانے کا واقعہ عرض نہ کیا تھا مگر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے من وعن بیان فرمادیا۔دوسرے یہ کہ بڑوں کے احکام اور ہیں چھوٹوں کے کچھ اور،دیکھو صدقہ نفلی نہ دینا گناہ نہیں بلکہ جب چیز تھوڑی ہو گھر والوں کو بھی اس کی ضرورت ہو تو صدقہ نہ کرنا بہتر مگر شانِ نبوت یہ تھی کہ ان کے دروازے سے کوئی محروم نہ جائے اس لیے رب تعالٰی نے ان بزرگوں کو اس طرح متنبہ فرمایا۔شعر موسیا آداب دانا دیگراند سوختہ جان درد اناں دیگر اند حدیث شریف بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں گوشت مٹی میں رہ کر مٹی بن جاتا ہے تو رب تعالٰی کی قدرت سے پتھربھی بن سکتاہے پچھلی امتوں میں مسخ ہوا،کوئی بندر یا سور بنی، بعض لوگ پتھر بن گئے اگر رب تعالٰی نے اس گوشت کو مسخ کرکے پتھر بنادیا تو کیا مشکل ہے۔غرضکہ حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔