| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ام بجید سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی غریب میرے دروازہ پر کھڑا ہوتاہے حتی کہ میں شرما جاتی ہوں ۲؎ اور اپنے گھر میں کچھ پاتی نہیں جو اس کے ہاتھ میں دوں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ہاتھ میں کچھ ضرور دے دو اگرچہ جلی کھری ہو۳؎(احمد،ابوداؤد، ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
شرح
۱؎ آپ کا نام حواء بنت یزید ابن سکن ہے،حضرت اسماء بنت یزید کی بہن ہیں،صحابیہ ہیں انصاریہ ہیں۔ ۲؎ یعنی میں اس کے بار بار سوال کرنے سے شرما جاتی ہوں اسے خالی لوٹانے میں غیرت آتی ہے اور پاس کچھ ہوتا نہیں جو دوں،اس کشمکش میں کیا کروں۔اس میں فقراء کی شکایت نہیں ہے بلکہ شرعی مسئلہ پوچھنا ہے کہ ایسی مجبوریوں میں اسے منع کردینا ناجائز تو نہیں۔ ۳؎ جلی کھری فقط مثال کے لیے ہے مراد بہت معمولی غیرقیمتی چیز ہے یعنی یہ نہ سوچو کہ کوئی اعلیٰ چیز ہو تو ہی دوں بلکہ ادنے چیزبھی دے ڈالو۔خیال رہے کہ خود حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مساکین کو کچھ نہیں دیا،وہ تعلیم مسئلہ کے لیے تھا کہ بلاضرورت سوال جائز نہیں یہ تبلیغ تھی نہ کہ سائل کا رد۔اس تعلیم کا نتیجہ یہ ہوگیا تھا کہ مدینہ پاک میں کوئی بھی شخص بلاسخت مجبوری مانگتا ہی نہ تھا،حضرت ام بجیدکو یہ ارشاد فرمایا کہ چونکہ اب مجبورومعذور لوگ ہی مانگتے ہیں لہذا انہیں محروم نہ پھیرا کرو لہذا یہ حدیث حکیم ابن حزام وغیرہ کی احادیث کے خلاف نہیں۔اب پیشہ ور سائلوں کو منع کردینا بھی جائز بلکہ ضروری ہے۔