Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
107 - 5479
حدیث نمبر 107
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں بدتر درجہ والے آدمی کی خبر نہ دوں عرض کیا گیا ہاں فرمایا وہ جس سے اﷲ کے نام پر مانگا اور نہ دے ۱؎(احمد)
شرح
۱؎  اس حدیث کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ وہ سائل منگتا بدترین سائل ہیں جو لوگوں سے اﷲ کے نام کا واسطہ دے کر مانگیں اور انہیں ملے کچھ بھی نہیں یعنی یَسْئَالُ بصیغہ معروف ہو۔مطلب یہ ہوگا کہ ایسا سائل چونکہ رب تعالٰی کے نام پاک کی توہین کرتا ہے کہ ہر کس و ناکس سے اﷲ کے نام پر مانگتا پھرتا ہے کوئی دیتا ہے کوئی نہیں دیتا۔معلوم ہوا کہ اﷲ کے نام کو بھیک کا ذریعہ نہ بناؤ۔دوسرے یہ کہ وہ شخص بدترین آدمی ہے جس سے سائل اﷲ کے نام پر مانگے اور اس کا دل رب کی نام پربھی نہ پگھلے اور اسے کچھ نہ دے تب اس سے وہ صورت مراد ہوگی کہ سائل اضطرار و سخت مجبوری کی حالت میں ہو،خدا کے نام کا واسطہ دے کر اپنی جان بچانے کے لیے مانگ رہا ہو اور یہ جا ن بوجھ کر کچھ نہ دے،چونکہ یہ نہایت سخت دل ہے اس لیے بدتر ہے۔غرضکہ پیشہ ور بھکاریوں کے متعلق نہیں ارشاد ہورہا ہے۔
Flag Counter