۱؎ اس حدیث کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ وہ سائل منگتا بدترین سائل ہیں جو لوگوں سے اﷲ کے نام کا واسطہ دے کر مانگیں اور انہیں ملے کچھ بھی نہیں یعنی یَسْئَالُ بصیغہ معروف ہو۔مطلب یہ ہوگا کہ ایسا سائل چونکہ رب تعالٰی کے نام پاک کی توہین کرتا ہے کہ ہر کس و ناکس سے اﷲ کے نام پر مانگتا پھرتا ہے کوئی دیتا ہے کوئی نہیں دیتا۔معلوم ہوا کہ اﷲ کے نام کو بھیک کا ذریعہ نہ بناؤ۔دوسرے یہ کہ وہ شخص بدترین آدمی ہے جس سے سائل اﷲ کے نام پر مانگے اور اس کا دل رب کی نام پربھی نہ پگھلے اور اسے کچھ نہ دے تب اس سے وہ صورت مراد ہوگی کہ سائل اضطرار و سخت مجبوری کی حالت میں ہو،خدا کے نام کا واسطہ دے کر اپنی جان بچانے کے لیے مانگ رہا ہو اور یہ جا ن بوجھ کر کچھ نہ دے،چونکہ یہ نہایت سخت دل ہے اس لیے بدتر ہے۔غرضکہ پیشہ ور بھکاریوں کے متعلق نہیں ارشاد ہورہا ہے۔