Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
104 - 5479
حدیث نمبر 104
روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے کوڑھی گنجا اور اندھا اﷲ تعالٰی نے ان کا امتحان لینا چاہا ۱؎ تو ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا کہ کوڑھی کے پاس آیا بولا تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھا رنگ اوراچھی کھال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۲؎ حضور نے فرمایا کہ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور اسے اچھا رنگ اچھی کھال دیدی گئی۳؎ فرشتہ بولا تجھے کون سا مال پسند ہے وہ بولا اونٹ یا حضور نے فرمایا گائے،اسحاق کو شک ہے مگر کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے ۴؎  فرمایا کہ اسے گیابھن اونٹنی دے دی گئی فرشتے نے کہا اﷲ تجھے اس میں برکت دے ۵؎ فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھے بال اور یہ کہ میری بیماری جاتی رہے جس سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں فرمایا کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی گنج جاتی رہی فرمایا کہ اسے اچھے بال دے دیئے گئے ۶؎ پوچھا تجھے کون سا مال پسند ہے بولا گائے تو اسے گیابھن گائے دی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے فرمایا پھر وہ اندھے کے پاس پہنچا کہا تجھے کون سی چیز پسند ہے وہ بولا کہ اﷲ مجھے میری آنکھیں لوٹا دے جس سے میں لوگوں کو دیکھو فرمایا کہ اس نے اندھے پر ہاتھ پھیرا تو اﷲ نے اس کی بینائی لوٹا دی۷؎ پھر پوچھا کہ تجھے کون سا مال پسند ہے کہا بکریاں اسے گیابھن بکری دے دی پھر ان دونوں جانوروں نے بچے دیئے اور یہ بھی بیاہی تو اس کے پاس اونٹوں کا جنگل ہوگیا اور اس کے پاس گایوں کا جنگل اور اس کے پاس بکریوں کا جنگل ۸؎ فرمایا پھر فرشتہ کوڑھی کے پاس اپنی اسی شکل و صورت میں آیا۹؎ بولا مسکین آدمی ہوں بحالت سفر میرے سارے اسباب جاتے رہے ۱۰؎  تو اب اﷲ کی توفیق پھر تیری مدد کے بغیر گھر نہیں پہنچ سکتا ۱۱؎ میں تجھ سے اس خدا کے نام پر ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ اچھی کھال اور مال دیا تاکہ میں اپنے سفر میں مقصد پر پہنچ جاؤں۱۲؎ تو وہ بولا کہ حقوق مجھ پر بہت ہیں ۱۳؎ فرشتہ بولا میں شاید تجھے پہچانتا ہوں تو کوڑھی فقیر نہ تھا؟ کہ تجھ سے لوگ گھن کرتے تھے پھر تجھے اﷲ نے مال دیا وہ بولا کہ میں تو اس مال کا پشت درپشت وارث ہوا ہوں ۱۴؎ فرشتہ بولا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اﷲ تجھے جیساتھا ویسا ہی کردے ۱۵؎  فرمایا پھر فرشتہ گنجے کے پاس اسی صورت میں آیا اس سے وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور اس نے ویسا ہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا ۱۶؎ فرشتہ بولا اگر تو جھوٹا ہو تو اﷲ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو تھا فرمایا پھر وہ اپنی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا بولا مسکین و مسافر ہوں میرے سفر میں اسباب منقطع ہوچکے ہیں آج خدا تعالٰی کی پھر تیری مدد کے بغیر میں منزل تک نہیں پہنچ سکتا۱۷؎ میں تجھ سے اس اﷲ کے نام جس نے تجھے آنکھیں لوٹائیں ایک بکری مانگتا ہوں جس کے ذریعہ اپنے سفر میں گھر پہنچ سکوں ۱۸؎ وہ بولا میں اندھا تھا اللہ نے مجھے روشنی لوٹائی تو جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے رب کی قسم آج تو جو کچھ اﷲ کے نام پر لے گا میں تجھے اس سے منع نہ کروں گا ۱۹؎ فرشتہ بولا اپنا مال رکھ تم سب کی آزمائش کی گئی ہےتجھ سے رب راضی ہوا اور تیرے دو یاروں سے ناراض ۲۰؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ شفا اور مال دے کر اور پھر کچھ مال طلب فرماکر رب تعالٰی دے کر شکر کا امتحان لیتا ہے لیکن صبر کا یہ امتحان خود رب تعالٰی کے اپنے علم کے لیے نہیں ہوتا بلکہ دنیا والوں کے سامنے مثال قائم کرنے کے لیے تاکہ لوگ ان واقعات سے عبرت پکڑیں۔

۲؎ یہ فرشتہ شکل انسانی میں آیا تھا جیساکہ حدیث کے اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔غالبًا طبیب کی شکل میں ہوگا یا مقبول الدعاء ولی کی تب ہی تو اس بیمار نے یہ خواہش ظاہر کی تاکہ وہ دوا یا دعا دے۔

۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مقبولوں کے ہاتھ پھیرنے سے بیماریاں جاتی ہیں،مصیبتیں ٹل جاتی ہیں بلکہ ان کے دھوون سے شفائیں ملتی ہیں،آبِ زمزم حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی ایڑی کا دھون ہے جو تاقیامت شفاء ہے،حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں کا غسالہ شفا تھا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ"۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کا تکلیف کی جگہ ہاتھ رکھ کر فیض دینا جائز ہے اور عمل سلب امراض جائز ہے یعنی چھوکر بیماری دورکردینا،ان کی اصل یہ حدیث ہے اسی لیے رب تعالٰی نے فرشتہ کے واسطہ سے اس کو شفا دی۔

۴؎  یعنی اسحاق ابن عبداﷲ جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں انہیں یہ شک ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کس کے لیے فرمایا اور گائے کس کے لیے۔غالب یہ ہے کہ اس گنجے نے اونٹ ہی مانگا تھا کیونکہ آگے گائے کا ذکر جزم سے آرہا ہے۔

۵؎  عشراء  ع کے پیش اور ش کے فتح سے عشرسے بنا،بمعنی دس،دس ماہا حاملہ اونٹنی کو عشراء کہتے ہیں،پھر مطلقًا حاملہ کو عشراء کہنے لگے،بعد میں گھر بار گھوڑےاور جانور وغیرہ پر یہ لفظ بولنے لگے۔ (اشعہ)غالبًا کنبہ کو عشیرہ اسی واسطے کہتے ہیں کہ اس سے آدمی دسیوں گنا ہوجاتا ہے،فرشتے نے یہ اونٹنی قدرتی اس کو دی کہیں سے خرید کر یا کسی اور کا مال نہ دیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر دست غیب میں فرشتے کے ذریعہ غیبی مال ملے تو حلال ہے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔جنات کا لایا ہوا حلال نہیں کہ وہ اکثر دوسروں کا چوری کرکے لے آتے ہیں فرشتہ نے اسے خیرات بھی دی اور دعا بھی،اس دعا کی برکت سے ہی اس کا مال بہت بڑھا،جوّاد مال بھی دیتے ہیں اور دعا بھی۔شعر

جب دینے کو بھیک آئے سرکوئے گدایاں 		لب پر یہ دعا تھی مرے منگتے کا بھلا ہو

۶؎   ظاہر یہ ہے کہ فرشتہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کیونکہ شفا دینے کے لیے بیماری کی جگہ کو ہی چھوا جاتاہے۔حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کے چھوتے ہی گنج بھی جاتی رہی اور کھال پر فورًا بال بھی اُگ آئے اور بڑھ بھی گئے،دوسروں کے بالوں سے زیادہ خوش نما تھے جیساکہ حَسَنًا سے معلوم ہورہا ہے۔غرق فرعون کے دن حضرت جبریل کی گھوڑی کی ٹاپ جہاں پڑتی تھی وہاں سبزہ اگ آتا تھا،اسی خاک کو سامری نے سنبھال لیا،پھر فرعونی سونے کا بچھڑا بناکر اس کے منہ میں ڈال دی،تو بچھڑے میں جان پیدا ہوگئی اور وہ چیخنے لگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذْتُہَا" الایہ۔کوئی منکر حدیث اس پر یہ اعتراض نہیں کرسکتا کہ فرشتہ کے ہاتھ سے فورًا بال کیسے اُگ سکتے ہیں،اور جب نوری فرشتہ کا یہ فیض ہوسکتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء امت کا فیض کیسا ہوگا مولیٰنا فرماتے ہیں۔شعر

 اے ہزاراں جبرئیل اندر بشر 		   بہرحق سوئے غریباں یک نظر

یہ حدیث فیض ملائکہ کی بہترین دلیل ہے۔

۷؎  یعنی فرشتہ کے ہاتھ لگاتے ہی اس کی دونوں آنکھیں روشن ہوگئیں۔اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اﷲ کے مقبول بندے اﷲ کے حکم سے دافع البلاء ہوتے ہیں،دیکھو گنج،کوڑھ،اندھا پن سخت بلائیں ہیں جو فرشتہ کے ہاتھ لگتے ہی جاتی رہیں،یوسف علیہ السلام کی قمیص یعقوب علیہ السلام کی سفید آنکھ پر لگی تو آنکھ روشن ہوگئی۔(قرآن حکیم)عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان عام فرمایاتھا"وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ"۔درود تاج میں جو آتا ہے"دَافِعُ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ"الخ اس کا ماخذ قرآن کریم کی یہ آیات اور احادیث ہیں۔جب اطباء کی گولیاں اور جنگل کی جڑی بوٹیاں دافع قبض،دافع جریان ہوسکتی ہیں،ایک شربت کا نام شربت فریاد رس ہوسکتا ہے تو کیا اﷲ کے محبوبوں کا درجہ ان چیزوں سے بھی کم ہے۔

۸؎ اس زمانہ میں جانوروں سے ہی مالداری ہوتی تھی تو مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ اپنے شہر کے بڑے مالدار بن گئے۔

۹؎ ظاہر یہ ہے کہ دونوں ضمیریں فرشتہ کی طرف لوٹ رہی ہیں اور صورت سے مراد اس فرشتہ کی پہلی وہ صورت ہے جس صورت میں دینے کے وقت آیا تھا۔مقصد یہ ہے کہ یہ شخص مال پاکر ایسا احسان فراموش ہوگیاکہ اس نے اپنے محسن کو ایسا کورا جواب دیا اور ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع خود کوڑھی ہویعنی یہ فرشتہ اس کوڑھی کی شکل میں آیا جو پہلے خود اس کی اپنی شکل تھی تاکہ یہ اپنا کوڑھ یاد کرکے اس پر حم کرے،پہلے معنے زیادہ واضح ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ فرشتے ہر شکل میں آسکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ مغالطہ میں ڈال کر امتحان لینا جائزہے یہ دھوکا نہیں بلکہ امتحان ہے۔

۱۰؎ علمی لحاظ سے یہ جملہ خبریہ نہیں تاکہ اسے جھوٹ کہا جائے بلکہ تخییل ہے،یہ تخییل امتحانات اور سوالات میں کام آتی ہے جیسے مسئلہ پوچھاجاتاہے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی حالانکہ شہر میں نہ کوئی زید ہوتا ہے نہ اس کی بیوی فقط صورت مسئلہ پیش کی جاتی ہے،قرآن کریم فرمارہا ہے کہ داؤد علیہ السلام کے پاس دو فرشتے شکل انسانی میں آئے ان میں سے ایک بولا"اِنَّ ہٰذَاۤ اَخِیۡ لَہٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوۡنَ نَعْجَۃً"الایہ۔میرے اس بھائی کے پاس ننانوے بکریاں ہیں اور میرے پاس ایک،حالانکہ وہاں نہ بکریاں تھیں نہ کوئی جھگڑا،لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتہ نے جھوٹ کیوں کہا۔

۱۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کے ساتھ بندوں سےبھی امداد لینا جائزہے اور بندے کا ذکر رب تعالٰی کے ساتھ ملا کر کرسکتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔

۱۲؎ یعنی اپنے پرانے حال کویادکر اور اس تبدیلی حال کے شکریہ میں مجھے ایک اونٹ دے دے۔

۱۳؎  بال بچے،نوکر چاکر بہت رکھتا ہوں جن کے باعث خرچ زیادہ ہے انہیں کا پورا نہیں ہوتا تجھے کہاں سے دوں۔

۱۴؎ اس سوال و جواب سے معلوم ہوتاہے کہ ہرشخص کو اپنی اصلی فقیری اور گزشتہ مصیبتیں یاد ہونی چاہئیں کہ یہ شکر کا ذریعہ ہے اور بدنصیب ہے وہ شخص جو عیش یا طیش میں اﷲ کو بھول جائے اور کسی کے یاد دلانے پر جھوٹ بولے۔

۱۵؎  یہ اگر مگر شک کے لیے نہیں بلکہ امتحان ہی کے لیے ہے۔ظاہر یہ ہے کہ فرشتہ کی یہ بددعا اسے لگی اور وہ پھر فقیر اور کوڑھی ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ فقیروں کے بھیس میں کبھی صاحبِ دل بھی آجاتے ہیں اسی لیے رب نے فرمایا:"وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"۔شعر

خاکساران جہاں رابحقارت منگر		توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

۱۶؎ اپنی صورت کی شرح ابھی کی جاچکی ہے کہ اس سے مراد اس گنجے کی صورت ہے یعنی گنجا اور فقیر بن کر آیا تھا یا خود فرشتہ وہ صورت جس میں دیتے وقت آیا تھا،اس سے مقصود گنجے کی ناشکری کا اظہار ہے۔

۱۷؎  کیونکہ اﷲ تعالٰی کی امدادحقیقی ہے اور بندے کی مجازی اس لیے ثُمَّ فرمایا گیا تاکہ دونوں مددوں میں فرق معلوم ہو۔حدیث شریف میں ہے یہ نہ کہو کہ اگر اﷲ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ یوں کہو اﷲ چاہے پھر فلاں چاہے اور ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ حکم بھی استحبابی ہے ورنہ واؤ سے بھی کہہ سکتے ہیں جس کی دلیل قرآن شریف سے پیش کی گئی۔

۱۸؎ یا اس طرح کہ اس کو فروخت کرکے قیمت سے توشہ اور سواری حاصل کرلوں یا اس طرح کہ بکری کو اپنے ساتھ رکھوں اور اس کا دودھ پیتا اور فروخت کرتا ہوا چلا جاؤں،دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں کہ اگر قیمت مقصود ہوتی تو اس سے پیسے ہی کیوں نہ مانگ لیتا لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بکری سے سفر کیسے ہوگا وہ تو سواری کے لائق نہیں جیسا کہ منکرین حدیث کہتے ہیں۔

۱۹؎  عبارت حدیث سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں:ایک یہ کہ یہ شخص مادر زاد اندھا نہ تھا بلکہ پہلے انکھیارا تھا بعد میں نابینا ہوا،ورنہ روشنی لوٹانے کے کیا معنے ہوتے،نیز عربی میں مادر زاد اندھے کو اَکْمَہْ کہتے ہیں اور عارضی اندھے کو اعمیٰ۔دوسرے یہ کہ یہ صدقہ فرضی نہ تھا بلکہ نفلی تھا کیونکہ صدقہ فرضی مقرر ہوتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سارا مال فقیر کے سامنے رکھ دینا جتنا چاہے وہ لے لے اول درجہ کی سخاوت ہے۔

۲۰؎  سبحان اﷲ! یہ ہوا اس امتحان کا نتیجہ کہ وہ دونوں دنیوی و اخروی غضب میں آگئے کہ ان کا مال بھی گیا اور صحت بھی اور رب تعالٰی کی ناراضی ان سب کے علاوہ،ادھر اس نابینا کے پاس مال بھی رہا آنکھیں بھی،خدا کی رضا اس کے سوا۔اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کا ارادہ بھی اچھا ہے،دیکھو اس سے صدقہ لیا نہ گیا مگر چونکہ وہ دینے پر تیار ہوگیا تھا اس لیے فائدہ پہنچ گیا۔
Flag Counter