Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
868 - 993
حدیث نمبر868
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عبداﷲ ابن ابی کے پاس اس کے غار میں رکھ دیئے جانے کے بعد پہنچے آپ نے حکم دیا وہ نکالا گیا اس کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اس میں اپنا لعاب شریف ڈالا اسے اپنی قمیص پہنچائی ۱؎ راوی فرماتے ہیں کہ عبداﷲ نے حضرت عباس کو قمیص پہنائی تھی۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ معلوم ہوا کہ میت کو برکت کے لیے بزرگوں کو لعاب ڈالنا،اسے بزرگوں کاکپڑا دینا سنت ہے اگرچہ کافر و منافق اس سے فائدہ نہ حاصل کرسکیں،مگر بادل تو ہر اچھی بری،پاک و گندی زمین پر برستا ہے آگے زمین کی تقدیر کہ بارش سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے،لہذا اس حدیث سے نہ تو یہ ثابت ہوتاہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم عبداﷲ ابن ابی کے نفاق سے بے خبر تھے اور نہ یہ کہ آپ کو خبر نہ تھی کہ کافر کو یہ تبرکات مفید نہیں۔صحیح روایات میں ہے کہ عبداﷲ ابن ابی منافق کا بیٹا عبیداﷲ سچا مؤمن صحابی تھا،اس کی دلجوئی کے لیے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس رحم خسروانہ کو دیکھ کر بہت سے منافق مخلص مؤمن بن گئے۔دیکھو ہماری کتاب"جاء الحق"۔

۲؎ اس جگہ مرقاۃ نے دو واقعہ بیان کیے:ایک یہ کہ حضرت عباس جب بدر میں قید ہوکر آئے تو ننگے تھے،عبداﷲ ابن ابی منافق نے اپنی قمیص آپ کو پہنادی کیونکہ وہ آپ کے ٹھیک تھی کہ وہ بھی لمبا تھا اور آپ بھی دراز قامت،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ اس منافق کا احسان میرے چچا پر رہ جائے اس لیے اسے مرنے کے بعد اپنی قمیص دے دی۔دوسرے یہ کہ جب یہ منافق بیمار ہوا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداﷲ کو محبت یہودہ جاہ نے ہلاک کردیا،وہ بولا کہ یارسول اﷲ میں نے آپ کو طعنے دینے کے لیے نہیں بلایا ہے بلکہ دعا کے لیے بلایا ہے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ میری نماز جنازہ پڑھائیں اور مجھے اپنی قمیص برکت کے لیے عطا کریں،اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے عبیداﷲ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی موت کی خبر دی تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل میں چچا کا بدلہ بھی تھا اور اس کے صحابی بیٹے کی دلداری بھی اور تبلیغ بھی۔چنانچہ اس واقعہ کو دیکھ کر ابن ابی کی قوم کے ایک ہزار آدمی مسلمان ہوئے۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردے کو قبر میں رکھنے کے بعدبھی ضرورتًانکالاجاسکتا ہے۔خیال رہے کہ اس واقعہ کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ"۔تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی نماز جنازہ اور دعا سب چھوڑدی۔
Flag Counter