۱؎ جنازے کے ساتھ سواری پرجانابھی جائز ہے اور پیدل بھی،سوار جنازے سے پیچھے ہی رہے،پیدل آگے پیچھے ہرطرف چل سکتا ہے مگر پیدل جانا اور پیچھے رہنا بہترہے۔ضرورت کے وقت میت کو سواری پر لے جانابھی جائز ہے جب کہ قبرستان بہت دور ہو جیسے کراچی یا بمبئی،ورنہ سنت یہ ہے کہ چار آدمی اپنے کندھوں پر اٹھاکر اس طرح لےجائیں کہ میت کا سر آگے ہو،پاؤں پیچھے۔نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔اس نماز کی تین شرطیں ہیں:میت کا مسلمان ہونا،پاک ہونا،نمازی کے آگے رکھا ہوا ہونا،لہذا غسل سے پہلےیا غائب جنازہ پر یاسواری پر رکھے ہوئے یا نمازی کے پیچھے رکھے پر نماز جنازہ جائزنہیں۔
حدیث نمبر869
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنازے کو تیز لے جاؤ ۱؎ اگر وہ نیک ہے تو بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے لے جارہے ہو اور اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو وہ ایک بری چیز ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاررہے ہو ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی میت کو قبرستان تیز رفتار سے پہنچاؤ۔تیزی سے مراد عام رفتار سے زیادہ اور دوڑنے سےکم ہے،ہاں اگرمیت کے پھول یا پھٹ جانے کا اندیشہ ہو تو دوڑتے ہوئے لے جائیں۔ ۲؎ یعنی ہر نیک اور بد میت کو تیز ہی لے جاناچاہیے،نیک کو اس لیے کہ اس کا اگلا گھر اس کے لیے خیرہے وہاں جلدی پہنچاؤ،بد کو اس لیے کہ وہ رحمت سے دور ہے تم سے بھی جلدی دور ہوجائے۔اس سےمعلوم ہوا کہ برے آدمی کی صحبت مرے بعدبھی اچھی نہیں چہ جائے کہ اس کی زندگی میں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ"۔