روایت ہے حضرت سعد ابن ابراہیم سے وہ اپنے والد سے راوی کہ عبدالرحمان بن عوف کے پاس کھانا لایا گیا ۱؎ وہ تھے روزے دار تو فرمایا کہ مصعب ابن عمیر جو مجھ سے بہتر تھے جب شہید ہوئے تو ایسی چادرمیں کفن دیئے گئے کہ اگر انکا سر ڈھکاجاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤ ں ڈھکے جاتے تو سرکھل جاتا مجھے خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت حمزہ جو مجھ سے بہتر تھے۲؎ وہ بھی شہید ہوئے پھرہم پر دنیا اتنی پھیلائی گئی جوپھیلائی گئی یا فرمایا ہمیں دنیا اتنی ملی جوملی ہمیں خطرہ ہے کہ ہماری نیکیوں کا ثواب جلد دے دیا گیا ہو۳؎ پھر رونے لگے حتی کہ کھانا چھوڑ دیا۴؎(بخار ی)
شرح
۱؎ افطار کے لیے۔غالبًا روزہ نفلی تھا،کھانا بہترین اور پرتکلف تھاجیساکہ اگلے مضمون سےمعلوم ہورہا ہے کہ آپ بہترین کھانا دیکھ کر حضرت مصعب و حمزہ کی موت کی بے کسی یاد کرکے رونے لگے۔ ۲؎ آپ کا یہ فرمان عجز و انکساری کے لیے ہے ورنہ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اورحضرت مصعب و حمزہ ان میں سے نہیں۔تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ عشرہ مبشرہ دیگر صحابہ سے افضل ہیں۔(لمعات) ۳؎ یہ خوف صحابہ کی حد ہے کیونکہ ان بزرگوں کا سارا مال حلال و طیب تھا جو غنیمتوں اورتجارتوں سے حاصل ہوا،پھر ان مالوں سے ان بزرگوں نے بڑی دینی خدمات کیں اس کے باوجود اتنا خوف خدا ہے۔خیال رہے کہ حضرت مصعب ابن عمیر اسلام سے پہلے بڑے مالدا رتھے،بہت خوش پوش اور خوش غذا تھے،اسلام و ہجرت کے بعد یہ حال ہوا کہ سخت گرمیوں میں چمڑے کا لباس پہنتے تھے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ان کو دیکھ کر رو پڑے کہ پہلے کیا حال تھا اور اب کیا حال ہے۔ ۴؎ حالانکہ دن بھر کے روزے دار تھے،آپ کی نظر اس آیت کریمہ پرپہنچی"مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ"۔