۱؎ آپ نے اس حدیث کو ظاہری معنی پرمحمول کیا جیسے کہ حضرت عدی ابن حاتم نے"الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ"میں سوتی دھاگہ سمجھا تھا حالانکہ وہاں صبح کے نورانی ڈورے مراد ہیں،ایسے ہی اس حدیث میں کپڑوں سے مراد حال اور اعمال ہیں یعنی ایمان و کفر،تقویٰ اور فسق،جس حال میں مرے گا اسی میں قیامت کے دن اٹھے گا،ورنہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ سب مردے اپنی قبروں سے ننگے و بے ختنہ اٹھیں گے،رب فرماتا ہے:"کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیۡدُہٗ"۔بعض علماء نے اس کی توجیہ یوں کی کہ میت قبروں سے کپڑوں میں اٹھے گی محشر میں ننگی پہنچے گی لیکن یہ معنی بہت ہی بعید ہیں۔(لمعات)