روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدکپڑے پہنوکیونکہ یہ تمہارے تمام کپڑوں سے بہتر ہیں اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دو ۱؎ اور بہتر سرمہ اثمد ہے کہ وہ بال اگاتا ہے نگاہ تیزکرتا ہے۲؎(ابوداؤد،ترمذی)ابن ماجہ نے موتاکم تک روایت کی۔
شرح
۱؎ یہ حکم استحبابی ہے کہ زندوں اور مُردوں کے لیے سفید کپڑامستحب ہے ورنہ عورت میت کے لیے ریشمی،سوتی،سرخ،پیلا ہرطرح کا کفن جائزہے اگرچہ بہترسفید اورسوتی ہے۔ ۲؎ یہاں سرمہ سے زندوں کا سرمہ مراد ہے کیونکہ مردے کو سرمہ لگانا سنت نہیں،اثمد سرمہ سے مراد سادہ اصفہانی سرمہ ہے یعنی پتھر والا۔حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ شب کو سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین سلائی لگاتے تھے،اس سے پلک کے بال بڑھتے ہیں اور آنکھوں میں روشنی ہوتی ہے۔