Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
862 - 993
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر862
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدکپڑے پہنوکیونکہ یہ تمہارے تمام کپڑوں سے بہتر ہیں اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دو ۱؎ اور بہتر سرمہ اثمد ہے کہ وہ بال اگاتا ہے نگاہ تیزکرتا ہے۲؎(ابوداؤد،ترمذی)ابن ماجہ نے موتاکم تک روایت کی۔
شرح
۱؎ یہ حکم استحبابی ہے کہ زندوں اور مُردوں کے لیے سفید کپڑامستحب ہے ورنہ عورت میت کے لیے ریشمی،سوتی،سرخ،پیلا ہرطرح کا کفن جائزہے اگرچہ بہترسفید اورسوتی ہے۔

۲؎ یہاں سرمہ سے زندوں کا سرمہ مراد ہے کیونکہ مردے کو سرمہ لگانا سنت نہیں،اثمد سرمہ سے مراد سادہ اصفہانی سرمہ ہے یعنی پتھر والا۔حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ شب کو سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین سلائی لگاتے تھے،اس سے پلک کے بال بڑھتے ہیں اور آنکھوں میں روشنی ہوتی ہے۔
Flag Counter