| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جسے بحالت احرام اس کی اونٹنی نے کچل دیا وہ فوت ہوگیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور اس کے دوکپڑوں ہی میں کفن دو اور نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ سر ڈھکو کہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا اٹھے گا ۱؎(مسلم،بخاری)اورہم خباب کی حدیث کہ مصعب ابن عمیرقتل کیےگئے ان شاءاﷲتعالٰی "باب جامع المناقب" میں ذکر کریں گے۲؎
شرح
۱؎ احناف کے ہاں یہ حدیث اس میت کی خصوصیات میں سے ہے۔ہرمحرم کا جو اپنے احرام میں فوت ہوجائے یہ حکم نہیں اسے دیگر مُردوں کی طرح ہی کفن دے کر دفن کیا جائے گا اسی لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہی کا ذکر فرمایا یہ نہ فرمایا کہ ہرمحرم کے ساتھ تم یہی کیاکرناکیونکہ کفن دفن کے احکام کی احادیث عام ہیں ان میں محرم اور غیرمحرم کا فرق نہیں۔ ۲؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی لیکن ہم نے اسے اس باب کے مناسب نہ سمجھا،لہذا بجائے یہاں کے وہاں لائیں گے۔