۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سوتی یعنی سفید کپڑے کا کفن دیا گیا یہی سنت ہے،اونی یا ریشمیں کفن سنت کے خلاف ہے بلکہ مرد کے لیے ریشمیں کفن حرام ہے۔یہاں قمیص سے سلی ہوئی قمیص مراد ہے جو زندگی میں پہنی جاتی ہے کفن کی قمیص مراد نہیں کہ وہ تو سنت ہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ غسل کے وقت قمیص اتارلی گئی تھی،لہذا یہ حدیث حضرت جابر ابن سمرہ کی اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا:قمیص،ازار اورلفافہ کہ وہاں کفن کی قمیص مراد ہے۔عمامہ کے متعلق بعض علماء نے اس کے معنی کیے ہیں کہ ان تین میں عمامہ نہ تھا بلکہ عمامہ ان کے علاوہ تھا،اس بناء پر مشائخ،علماء،صوفیاء کے کفن میں عمامہ دینا مستحب ہے۔واﷲ اعلم!