Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
858 - 993
باب غسل المیت وتکفینہ

میت کے غسل اورکفن کا باب ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ مؤمن میت کا غسل فرض کفایہ ہے۔حق یہ ہے کہ یہ غسل نجاست نہیں بلکہ غسل جنابت کی طرح حدث سےغسل ہے یعنی مؤمن کی نیند وضو توڑتی ہے اور اس کی موت غسل کیونکہ حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت یوں ہے کہ مؤمن کی زندگی اور موت میں نجس نہیں ہوتا۔(اشعہ)ہاں کافر اور جانور کی موت اسے نجس کردیتی ہے مگر شہید کی موت اس میں حدث بھی پیدا نہیں کرتی،نبی کی نیند وضو نہیں توڑتی اورشہید کی موت غسل نہیں توڑتی۔کفن تین قسم کے ہیں:کفن سنت مرد کے لیے تین کپڑے،عورت کے لیے پانچ۔کفن کفایت مرد کے لیے دو کپڑے،عورت کے تین۔کفن ضرورت مَرد عورت دونوں کے لیے ایک ایک کپڑا۔
حدیث نمبر858
روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎ فرماتی ہیں ہم پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جب کہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۲؎ تو فرمایا کہ انہیں تین بار یا پانچ بار اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری سےغسل دو۳؎ آخر میں کافور(یا فرمایا کچھ کافور)ڈال دو۴؎ جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دو جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند شریف پھینکا اور فرمایا کہ اسے ان کے کفن کے نیچے رکھ دو ۵؎ اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں طاق تین یا پانچ یا سات بارغسل دو اور داہنی طرف اور اعضائے وضو سے ابتداءکرو ۶؎ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے بالوں کے تین حصے کئے جنہیں ان کے پیچھے ڈالا ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کانام نسیبہ بنت کعب ہے،انصاریہ ہیں،اکثرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوؤں میں شریک رہیں،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھی۔

۲؎ یہ صاحبزادی حضرت زینب بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم زوجہ ابوالعاص ابن ربیع ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد میں بڑی تھیں،     ۸ھ؁ میں وفات پائی،بعض نے فرمایا کہ امّ کلثوم زوجہ حضرت عثمان تھیں جن کی وفات     ۹ھ؁ میں ہوئی مگر قول اول قوی ہے۔

۳؎ اس طرح کہ بیری کے پتے پانی میں جوش دے لوکیونکہ بیری سے میل خوب کٹتا ہے،جوئیں وغیرہ صاف ہوتی ہیں اور اس سے میت کا بدن جلد بگڑتا نہیں۔تین بارغسل دینا سنت ہے،سات بار تک جائز اور بلاوجہ اس سے زیادہ مکروہ۔بیری کا استعمال پہلی بار میں سنت ہے،باقی میں جائز۔خیال رہے کہ غسل میت میں کلی اور ناک میں پانی نہیں۔

۴؎ یعنی آخری بار جو پانی ان پر بہاؤ اس میں کچھ کافور ملا ہو کیونکہ یہ بہترین خوشبو ہے،اس سےکیڑے مکوڑے جسم کے قریب نہیں آتے۔جمہور علماءیہی فرماتےہیں کہ کافور آخری پانی میں ملایا جائے،بعض نے فرمایا کہ اسے خوشبوؤں میں شامل کیا جائے۔بہتر یہ ہے کہ دونوں جگہ استعمال کیا جائے۔

۵؎ شعار وہ کپڑا کہلاتا ہے جو جسم سے ملا رہے،شعریعنی بالوں سے ملا ہوا،دثار اوپر والےکپڑے کو یعنی میرا تہبند شریف ان کے جسم سے ملا ہوا رکھو اورکفن اوپر۔یہ تہبند کفن میں شمار نہ تھا بلکہ برکت اور قبر کی مشکلات حل کرنے کے لیے رکھا گیا۔اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بزرگوں کے بال،ناخن،ان کے استعمال کے کپڑے تبرک ہیں جن سے دنیا،قبر و آخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں،قرآن شریف میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قمیض کی برکت سے یعقوب علیہ السلام کی نابینا آنکھیں روشن ہوگئیں۔احادیث میں ثابت ہے کہ حضرت امیرمعاویہ،عمرو ابن عاص و دیگرصحابہ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ناخن،بال وتہبند شریف اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کے لیے محفوظ رکھے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات اور قرآنی آیت یا دعا کسی کپڑے یا کاغذ پرلکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرنا جائز بلکہ سنت ہے۔تیسرے یہ کہ ان چیزوں کے متعلق یہ خیال نہ کیا جائے کہ جب میت پھولے پھٹے گی تو ان کی بے حرمتی ہوگی،دیکھو سورۂ فاتحہ لکھ کر دھوکر بیمار کوپلاتے ہیں،یونہی آبِ زمزم برکت کے لیے پیتے ہیں حالانکہ پانی پیٹ میں پہنچ کر کیا بنتا ہے سب کو معلوم ہے۔کفنی الفی لکھنے اورتبرکات کفن میں رکھنے کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔

۶؎ یعنی پہلے میت کو وضو کراؤ پھر اس طرح غسل دو کہ اولًا داہنا حصہ دھوؤ پھر بایاں،یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اگر غسال انگلی پر کپڑا لپیٹ کر تر کرکے اس کے دانتوں اورنتھنوں پرپھیر دے تو مستحب ہے۔

۷؎ حضرت ام عطیہ کا یہ عمل اپنی رائے سے ہوگا کہ عمومًا عورتیں بالوں کے تین حصے کرکے چوٹی بُنتی ہیں جس سے وہ سارے بال پیٹھ کے پیچھے رہتے ہیں۔سنت یہ ہے کہ میت عورت کے بال کے دو حصے کیے جائیں ایک حصہ داہنی طرف سے دوسرا بائیں سے سینہ پر ڈال دیا جائے،سارے بالوں کا پیچھے رہنا مسنون نہیں۔
Flag Counter