۱؎ یعنی بعدموت مؤمن کی روح پرندے کی شکل میں جنت کے درختوں میں رہتی ہے اوروہاں کے پھل کھاتی ہے۔فرق یہ ہے کہ روحیں ہر وقت کھاتی ہیں اور ان کی روحیں صبح و شام۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے عام مؤمن مراد ہیں،روح کہیں بھی رہے مگر اس کا جسم سےتعلق رہتاہے۔مرقاۃ نے اس جگہ فرمایا کہ مرنے کے بعد مؤمن کا جسم بھی روح کی طرح لطیف ہوجاتا ہے۔چنانچہ مؤمن بعدوفات جہاں چاہے عالَم کی سیرکرتا ہے،دیکھو معراج کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم روح کی طرح نورہوچکا تھا اور اولیاءاﷲ کے لیے تمام زمین سمیٹ دی گئی ہے،وہ بیک وقت مختلف جگہ میں موجود ہوسکتے ہیں،ان کی یہ کرامت تو دنیا کی اس زندگی میں دیکھی گئی ہے،پھر عالم ارواح کا کیا پوچھنا۔بعض شارحین نے اس حدیث کا اس لیے انکارکیا کہ یہ عقل سے وراء ہے،اگر انسانی روح پرندوں میں پہنچ جائے تو آریوں کا آواگون ثابت ہوگا مگر یہ ان کی جہالت ہے وہ روح خود اس شکل میں ہوجاتی ہے آواگون سے اسے کیا تعلق،اس میں تو روح انسانی کتے یا گدھے کی روح بن جاتی ہے۔مؤمن کی روح کا پرندہ بن جانا ایسا ہی ہے جیسے فرشتوں کا شکل انسانی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہونا۔