| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن کعب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب حضرت کعب کو موت آئی تو ان کے پاس ام بشر بنت ابن معرور آئیں۲؎ بولیں اے ابوعبدالرحمان اگر تم فلاں سے ملو تو انہیں میرا سلام پہنچانا۳؎ وہ بولے ام بشر اﷲ تمہیں بخشے ہم تو ان چیزوں سے زیادہ مشغول ہوں گے وہ بولی اے ابو عبدالرحمان کیا تم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ مسلمانوں کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے درخت سے لٹکائی جاتی ہیں فرمایا ہاں بولیں یہ وہی ہے۴؎(ابن ماجہ،بیہقی،کتاب البعث والنشور)
شرح
۱؎ عبدالرحمان انصاری ہیں،تابعی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پاک میں پیدا ہوئے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے،آپ کے والد کعب ابن مالک انصاری بدری وہی مشہور صحابی ہیں جن کی توبہ کا واقعہ سورۂ توبہ میں مذکور ہے۔ ۲؎ ام بشر کی صحابیت میں اختلاف ہے،البتہ ان کے والد براء ابن معرور مشہور صحابی ہیں جنہوں نے عقبہ ثانیہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۳؎ حق یہ ہے کہ فلاں سے مراد ان کے بیٹے بشر ہیں جو ان کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے جس کا انہیں بہت صدمہ ہوا تھا،مدینہ منورہ میں جوبھی فوت ہوتا اس کی معرفت اپنے بیٹے کو سلام کہلا کربھیجتی تھیں،اس سلسلہ میں آپ کے پاس بھی آئیں۔اگر "ملو" کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری روح اسی جماعت میں سے ہوجس سے بشر ہے تو تم ضرور ان کے پاس جاؤ گے اور ان کے ساتھ رہو گے۔ ۴؎ یعنی بعدموت اپنی حالت میں گرفتار ہونا اورکسی کوکسی کی خبر نہ ہونا کفار کے لیے ہے،تمہاری موت تو مشغولیتیں ختم ہونے اور اطمینان شروع ہونے کا وقت ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کی روحیں جنت میں پہنچ جاتی ہیں اسی لیے اس طقبہ کا نام جنت الماوی ہے یعنی روحوں کی پناہ لینے کی جگہ،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،ان کے نزدیک شہداء کے لیے جنت کا خاص طبقہ ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ روح کے لیے فنا نہیں جنتیں اور وہاں کی نعمتیں پیدا ہوچکی ہیں۔