| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت براءابن عازب سے فرماتےہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں گئے قبر پر پہنچے قبر ابھی تیار نہ تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم آپ کے آس پاس ایسے بیٹھ گئے کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں ۱؎ حضور کے ہاتھ میں چھڑی تھی جس سے آپ زمین کریدنے لگے۲؎ پھر اپنا سر اٹھایا دو یا تین بارفرمایا کہ عذاب قبر سے اﷲ کی پناہ مانگو پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے روانہ ہوکر آخرت کی طرف جانے لگتا ہے تو اس پر آسمان سے سفید چہرے والے فرشتے اترتے ہیں گویا ان کے چہرے سورج ہیں۳؎ جن کے ساتھ جنت کے کفنوں سے کفن اور وہاں کی خوشبو ہوتی ہے حتی کہ میت کی تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت علیہ السلام آتے ہیں اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتے ہیں۴؎ اے پاک روح اﷲ کی بخشش اور رضا کی طرف چل تو وہ نکلتی ہے ایسی بہتی ہوئی جیسے مشک سے قطرہ ۵؎ ملک الموت اسے لے لیتے ہیں جب لیتے ہیں تو فرشتے ان کے ہاتھ میں پل بھرنہیں چھوڑتے حتی کہ اسے لے لیتے ہیں اس کو کفن اور خوشبو میں ڈال دیتے ہیں اس میت سے ایسی نفیس خوشبونکلتی ہے جیسے روئے زمین پر بہترین مشک سے۶؎ فرمایا اسے لےکر چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی کسی جماعت پرنہیں گزرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا ہی نفیس خوشبو ہے یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں ابن فلاں ہے اس کا وہ اعلیٰ نام لےکر جو زمین میں لیا جاتاتھا حتی کہ اسے لےکر دنیاوی آسمان پرپہنچتے ہیں تو اس کے لیے کھلواتے ہیں تو کھول دیاجاتاہے اسے ہر آسمان کے فرشتے دوسرے آسمان پرپہنچانے جاتے ہیں حتی کہ ساتویں آسماں تک پہنچادیتے ہیں ۷؎ رب فرماتا ہے کہ میرے بندے کی کتاب علیین میں لکھو۸؎ اور اسے زمین کی طرف کردو کیونکہ میں نے انہیں زمین سے ہی پیدا کیا وہاں ہی لوٹاؤں گا وہاں ہی سے دوبارہ نکالوں گا فرمایا اس کی روح جسم میں واپس کی جاتی ہے ۹؎ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ رب تیرا کون وہ کہتاہے رب میرا اﷲ ہے وہ کہتے ہیں دین تیرا کیا وہ کہتا ہے دین میرا اسلام کہتے ہیں یہ صاحب کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے وہ کہتاہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ کہتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا یہ کہتا ہے میں نے اﷲ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اس کی تصدیق کی ۱۰؎ تو آسمان سے پکارنے والاپکارتاہے کہ میرا بندہ سچا ہے ۱۱؎ اس کے لیے جنت کا فرش بچھاؤ جنتی لباس پہناؤ اور جنت کی طرف دروازہ کھول دو فرمایا تب اس تک جنت کی راحت و خوشبو آتی ہے،تاحدنگاہ اس کی قبر میں فراخی کی جاتی ہے۱۲؎ فرمایا کہ اس کے پاس ایک خوبصورت اچھے کپڑوں اچھی خوشبو والاشخص آتا ہے کہتاہے اس سے خوش ہو جو تجھے مسرور کرے گی یہ تیرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۱۳؎ یہ کہتا ہے تو کون ہے تیرا چہرہ بھلائی لاتاہے۱۴؎ وہ کہتاہے میں تیرا نیک عمل ہوں۱۵؎ تب بندہ کہتا ہے یارب قیامت قائم کر یا رب قیامت قائم کر تاکہ میں اپنے گھر بار اور مال میں پہنچوں۱۶؎ فرمایا کہ بندہ کافر جب دنیا کے خاتمے اور آخرت کی آمد میں ہوتا ہے توا س کی طرف آسمان سے سیاہ چہرے والے فرشتے اترتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں۱۷؎ اس کی حدنگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں،پھر ملک الموت آتےہیں اس کے سر کے پاس بیٹھتے ہیں کہتے ہیں اے خبیث جان رب کی ناراضی کی طرف نکل فرمایا کہ جان اس کے جسم میں چھپتی پھرتی ہے وہ اسے ایسے کھینچتے ہیں جیسے گرم سیخ بھیگی اون سے کھینچی جاتی ہے ۱۸؎ پھر اسے لے لیتےہیں جب لیتے ہیں تو دوسرے فرشتے وہ جان ملک الموت کے ہاتھ میں پلک جھپکتے تک نہیں چھوڑتےحتی کہ اسے ان ٹاٹوں میں ڈال لیتے ہیں اور اس سے روئے زمین کے بدترین مردار کی سی بدبو نکلتی ہے اسے لےکر چڑھ جاتے ہیں ۱۹؎ فرشتوں کی جس جماعت پربھی گزرتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کون خبیث جان ہے وہ اس کے دنیاوی بدترین ناموں سے جس سے موسوم کیاجاتا تھا نام لےکر کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا بیٹا یہاں تک کہ اسے لےکر آسمان دنیا تک آتے ہیں۲۰؎ کھلوایاجاتا ہے تو اس کے لیے کھولانہیں جاتا پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی نہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں اور نہ وہ جنت میں جائیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ۲۱؎ پھر رب تعالٰی فرماتا ہے کہ اس کی کتاب نچلی زمین کپے سجّین میں لکھو پھر ان کی جاں پٹخ دی جاتی ہے پھر حضور نے یہ تلاوت کی کہ جس نے اﷲ سے شرک کیا گویا وہ آسمان سے گر گیا جسے پرندے اچکتے ہیں یا اسے دور جگہ میں ہوا پھینْکتی ہے۲۲؎ پھر روح جسم میں لوٹائی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں کہتے ہیں تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا پھر کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا پھر کہتے ہیں یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے وہ کہتے ہیں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۲۳؎ تب آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے یہ جھوٹا ہے۲۴؎ اس کے لیے آگ کا بستربچھاؤ اور آگ کی طرف دروازہ کھولو تب اس تک دوزخ کی گرمی اور وہاں کی لو آتی ہے اس پر قبر اتنی تنگ کی جاتی ہے کہ ا س کی پسلیاں اِدھر اُدھر ہوجاتی ہیں۲۵؎ اس کے پاس ایک بدشکل برے لباس والا بدبو دار آدمی آتاہےکہتا ہے اس کی خبرلے جو تجھے غمگین کرے گی یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ تھا مردہ کہتا ہے کہ تو ہے کون کہ تیرا چہرہ شر(ڈر)لاتا ہے وہ کہتا ہے میں تیرے برے عمل ہوں تب یہ کہتا ہے الٰہی قیامت نہ قائم کر ۲۶؎ اور ایک روایت میں اس کی مثل ہے اس میں اتنی زیادتی ہے کہ جب مؤمن کی جان نکلتی ہے تو آسمان و زمین کے درمیان کے سارے فرشتے اس پر دعا کرتے ہیں اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ہر درازے والے یہی دعاکرتے ہیں کہ اس کی روح ان کی طرف سے چڑھے۲۷؎ اور کافر کی جان اس کی رگوں کے ساتھ نکالی جاتی ہے اس پر آسمان زمین کے درمیان والے فرشتے اور آسمان کے سارے فرشتے لعنت کرتے ہیں آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۲۸؎ ہر دروازے والے یہی دعا کرتے ہیں کہ الٰہی اس کی روح ان کی طرف سے نہ چڑھے۔(احمد)
شرح
۱؎ خاموش بےحس و حرکت،نیچی نگاہیں کئے ہوئے جیسے پرندوں کا شکاری جال لگاکر شکار کے انتظار میں بےحس و حرکت بیٹھتا ہے،صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہمیشہ ایسے ہی بیٹھا کرتے تھے،خصوصًا آپ کے کلام فرمانے کے وقت۔(لمعات) ۲؎ یعنی کسی فکر میں تھے جسکے باعث غیراختیاری جنبش ہورہی تھی جیساکہ سوچتے وقت انسان کیاکرتاہے۔ ۳؎ یا تو رحمت کے فرشتوں کا رنگ ہی یہ ہے یا اس مرنے والے کا نور ہدایت ان کے چہروں پر چمکتا ہے،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔ ۴؎ خود ملک الموت بھی اور ان کے ساتھ دوسرے فرشتے بھی،لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ یہ کہنے والے اور فرشتے ہیں۔سبحان اﷲ! کیسا نظارہ ہے کہ انسان اس وقت سورۂ یٰسین اور کلمہ شریف پڑھ رہے ہیں اور فرشتوں کی طرف سے یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں گویا میت دولہا ہے جسے انسانوں کی جماعت وداع کررہی ہے اور فرشتوں کی جماعت استقبال۔ ۵؎ اہلِ سنت کے نزدیک روح ایک لطیف جسم ہے جو بدن میں ایسے سرایت کئے ہوئے ہے جیسے گلاب کے پھول میں پانی۔صوفیاء کے نزدیک ریاضت،مجاہدہ سے بدن ضعیف ہوتاہے مگر روح قوی جس سے روح بآسانی نکل جاتی ہے جیسے کمزور پنجرے سے قوی جانور،ان دونوں قولوں کا ماخذ یہ حدیث ہے۔خیال رہے کہ سکرات موت روح نکلنے سے پہلے ہوتی ہے،مؤمن کو سکرات تو ہوتی ہے مگر روح کا نکلنا آسانی سے ہوتا ہے،نیز روح کا آسانی سے نکلنا جسم کی تڑپ کے خلاف نہیں،جسم روح کا عاشق ہے اس کے نکلنے پر تڑپتا ہے لہذا یہ حدیث بالکل صحیح ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ ۶؎ یعنی روح مؤمن کی خوشبو جنت کی ان خوشبوؤں پر غالب آجاتی ہے کیوں نہ ہوکہ یہ خوشبو ایمان کی ہے،عرفان کی ہے،جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی ہے،کونین کی خوشبو اس کے مقابل نہیں ہوسکتی اسی لیے فرشتے اس خوشبو سے مست ہوکر وہ گفتگو کررہے ہیں جو آگے مذکور ہے،ورنہ وہ حضرات تو ہمیشہ جنت کی خوشبو میں رہتے ہیں۔ ۷؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نیک اولاد اﷲ کی رحمت ہے،دیکھو اس نیک کی برکت سے اس کے باپ کا نام بھی فرشتے احترام سے لیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اس روح کے ساتھ دوقسم کے فرشتے ہوتے ہیں:ایک ڈیوٹی والے جن کے ذمہ اسے وہاں پہنچاناہے۔دوسرے استقبال اور ہم رکابی کرنے والے فرشتے جو احترام کے لیے اس کے ساتھ بہت دور تک جاتے ہیں۔ ۸؎ ساتویں آسمان سے مراد جنت ہے یا سدرہ یا عرشِ الٰہی کیونکہ یہ تینوں وہاں سے قریب ہی ہیں۔علیین ایک دفتر ہے جس میں نیکوں کے نام اور نامۂ اعمال لکھے جاتےہیں،یعنی اس بندے کی عمربھر کے اعمال اس رجسٹر میں نقل کردو،اس کا نام بھی اس فہرست میں لکھ دو۔ابن قیم نے کتاب الروح میں لکھا کہ یہ آسمانوں پر جانا،آنا اور ساری گفتگو پلک جھپکتے ہوجاتی ہے کیونکہ روح کی رفتاربجلی سے لاکھوں گناہ تیز ہے۔سوتے میں سونے والے کی روح ساتوں آسمان پھاڑکر عرش اعظم کے نیچے سجدہ کرکے جسم میں لوٹ آتی ہے اور اس میں ایک سیکنڈنہیں لگتا۔(مرقات)اپنے نورنظر اور قوت خیال کی رفتار دیکھ لو۔ ۹؎ ظاہر یہ ہے کہ جسم کے سارے اجزاء میں روح داخل ہوتی ہے اور مردہ زندہ ہوتا ہے۔بعض لوگوں نے کہاکہ صرف سینہ تک جاتی ہے مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں لیکن یہ زندگی ہمیں محسوس نہیں ہوتی ہے۔اگر مردہ ہمارے سامنے پڑا رہے تو اس پر یہ ساری واردات گزر جاتی ہے ہمیں خبرنہیں ہوتی۔ ۱۰؎ اس کی مکمل شرح "باب عذاب قبر"میں گزر چکی،بعض روایتوں میں مَنْ نَبِیُّكَبھی ہے یہاں مَا ھٰذَا الرَّجُلُ آیا مگر کوئی حرج نہیں،کسی سے وہ سوال ہوتا ہے کسی سے یہ۔مَا سے مرادحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صفات ہیں یعنی ان صاحب کے صفات بتا۔ ۱۱؎ ظاہر یہ ہے کہ پکارنے والا کوئی فرشتہ ہوتا ہے جو رب کا کلام نقل کرتا ہے۔ ۱۲؎ یعنی یہ مؤمن کامیابی کے بعد جنت میں نہیں پہنچتا،بلکہ جنت کو دیکھتا ہے،وہاں کی خوشبو میں ٹھنڈی ہوائیں محسوس کرتاہے مگر شہداء کی روحیں جنت میں پہنچ جاتی ہیں،بعدقیامت وہاں جسموں کا داخلہ ہوگا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ قبر کی فراخی بصارت کی حد تک ہوگی اور وہاں بصارت بقدر بصیرت ہوگی یعنی وہاں بصارتیں مختلف ہوں گی لہذا قبروں کی فراخیاں بھی مختلف ہوں گی۔ ۱۳؎ یوم سے مراد وقت ہے یعنی تیری تمام غم و تکلیف کا خاتمہ ہوچکا اب وہ وقت آگیا کہ تجھے ہرطرف سے خوشی ہی خوشی رہے،اسی وقت کا تجھ سے علماء،مشائخ،قرآن کریم اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا تھا جس وعدہ کی بناء پر تو نے ایمان وتقویٰ اختیارکیاتھا۔خیال رہے کہ اس وقت کی کبھی انتہا نہیں ابدالآباد تک رہے گی۔ ۱۴؎ یعنی تو کون حبیب ہے کہ غریب کو عجیب بشارت دیتا ہے اور میرا ہاں مونس ہے جہاں دنیا والے مجھے چھوڑ گئے،تیری تو صورت ہی ایسی پیاری ہے جس کو دیکھ کرغم غلط ہوتے ہیں،خوشی نصیب ہوتی ہے۔خیر سے مراد خوشی یا بشارت ہے۔ ۱۵؎ عمل دنیا میں ایک حالت وکیفیت ہے مگر برزخ ومحشر میں جسمانی شکل میں نمودار ہوں گے۔اب بھی خواب میں اعمال جسمانی شکل میں نظر آتے ہیں۔یوسف علیہ السلام نے خشک بالیوں،دبلی گایوں کی تعبیرقحط سالی سے دی،تربالیوں کی تعبیر فراخ سالی سے،اسی طرح خواب میں علم وعمل سفیدوجاری پانی کی شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔ ۱۶؎ مَالِیْ میں تین احتمال ہیں:ایک یہ کہ اس سے مراد ہو میرا والی۔دوسرے یہ کہ اس سے مراد ہو میرا انجام مال نتیجہ کو کہتے ہیں۔تیسرے یہ کہ مامو صولہ ہو اور لِیْ صلہ،یعنی وہ ثواب جو میرے لیے۔اھل سے مرادجنتی بیبیاں ہیں یعنی قیامت جلدقائم کر تاکہ اپنے ثواب اور جنت کے گھر بار میں واپس جاؤں،چونکہ انسان جنت ہی سے آیا ہے اس لیے وہاں جانے کو لوٹنا فرمایا گیا،اس لوٹنے سےبعض لوگ سمجھے کہ دنیا میں اعمال کے لیے آنا مراد ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ قیامت قائم ہونے پر نہ عمل کا وقت ہوگا نہ ان گھروں میں آنا۔ ۱۷؎ ظاہر یہ ہے کہ ان فرشتوں کے اپنے چہرے کالے نہیں ہوتے،بلکہ یہ کافر کے کفر اور بدعملی کا رنگ ہے جو ان کے چہروں میں نظر آتاہے جیسے کالے آدمی کی سیاہی آئینہ میں۔اور ہوسکتا ہے کہ ان کا اپنا رنگ ہو کیونکہ وہ غضب الٰہی کے مظہر ہیں مگر یہ سیاہی ان فرشتوں کی نورانیت کے خلاف نہیں،دیکھو آنکھوں کی پتلی کالی ہے مگر نور ہے۔ٹاٹ سے دوزخ کا سخت اور کھرکھرا لباس مراد ہے جیسا پہلے کہاجاچکا۔ ۱۸؎ ظاہر یہ ہے کہ فعل سے مراد روح ہے،روح اگرچہ نورانی ہے مگر بدعقیدگیوں اور بدعملیوں کی وجہ سے اسے خبیث کہا گیا جیسے پانی کی طبیعت ٹھنڈی ہے مگر آگ پر رکھے جانے سے آگ کا سا کام کرتا ہے۔روح اگرچہ سارے جسم میں پھیلی ہوتی ہے مگر اس فرمان کو سن کر اعضاء کی طرف سمٹتی ہے جسے چھپتے پھرنے سےتعبیر فرمایا گیا،اس تشبیہ میں بتایا گیا کہ کافر کی جان بڑی مصیبت سے نکلتی ہے اگرچہ وہ ہاٹ فیل ہی سے مرےحتی کہ اس کے ساتھ رگیں تک کھینچتی آتی ہیں جیسے گرم سیخ کے ساتھ بھیگی اون لپٹ جاتی ہے۔ ۱۹؎ اگرچہ فرشتے جانتے ہیں کہ اس کے لیے آسمان نہ کھلے گا،لیکن اسے رسوا کرنے سارے فرشتوں میں اس کا حال بد دکھانے اور خود اس پر اس کی مردودیت ظاہرکرنے اور آسمان سے زمین پرپٹخنے کے لیے لے جاتےہیں۔ ۲۰؎ اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان بے شمار فرشتے ہیں جن کی مختلف جماعتیں ہیں اور مختلف کام،جن پر یہ روح گزرتی ہے اور علامتیں سنتی ہیں یا تو لے جانے والے فرشتے انہیں نام بتاتے ہیں یا وہ خود ہی سوال کرکے خود ہی جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ ہر ایک کے ناموں اور کاموں سے خبردار ہیں۔ ۲۱؎ اس تعلیق سے معلوم ہورہا ہے کہ کفار کا جنت میں جانا ناممکن بالذات ہے کیونکہ اگر اونٹ بڑا ہے اورسوئی کا ناکہ چھوٹا تو اونٹ کاناکے میں سمانا بالذات محال ہے کہ یہ اجتماع ضدین کی فرد ہے۔بعض لوگوں نے یہ نکتہ سمجھا نہیں تو کہہ دیا کہ رب اونٹ کو چھوٹا کردینے یا ناکہ کو بڑا کردینے پرقادرہے،لہذاکفار کا جنت میں جانا ناممکن ہے۔خیال رہے کہ فاسق مؤمنوں کے لیے جو وعیدیں آئی ہیں ان سب کے خلاف ہوسکتا ہے مگر کفار کی اس وعید کے خلاف کبھی نہیں ہوسکتاکیونکہ رب نے ان ساری وعیدوں کو اپنے ارادے پرموقوف رکھا ہے،کہ فرمایا:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔لہذا یہ حدیث مسئلہ خلف وعید کے خلاف نہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"میں جلد اول دیکھو۔ ۲۲؎ سجّین وہ دفتر ہے جس میں کفار کے نام درج ہیں اور ان کے مرنے کے بعد عمر بھر کے نامۂ اعمال بھی اس میں درج کردیئے جاتے ہیں،یہ ساتویں زمین کے نیچے ہے جیسے علیین ساتویں آسمان سے اوپر۔یہ سجن سے مشتق ہے،بمعنی قید خانہ کیونکہ اس میں قیدیوں کے نام و کام درج ہوتے ہیں،اس آیت میں کفار کی زندگی کے حالات مذکور ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے بعدموت کے اس حال پربھی منطبق فرمایا یعنی کفار اوپر سے گرے اور شیاطین نے انکی تکا بوٹی کرلی۔ ۲۳؎ اس کی شرح باب عذاب قبر میں گزر گئی وہاں عرض کیا گیا تھا کہ کافر مرکر اپنا دین بھی بھول جاتاہے وہ یہ نہیں کہتا کہ میں عیسائی یا یہودی یا کافر تھا،نیز ابوجہل وغیرہ نے عمربھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا مگر مرتے ہی نہ پہچان سکے،لیکن قیامت تک کے مسلمان جنہوں نےکبھی حضور علیہ السلام کی زیارت نہ کی وہ فورًا پہچان لیں گے کیونکہ وہاں کی پہچان تعلق ایمان سے ہے نہ کہ جسمانی سے۔ ۲۴؎ اس جواب میں جھوٹا ہے کہ میں نہیں جانتا تھا یہ دنیا میں رب کو جانتا تھا،نبی کوپہچانتا تھا تب ہی تو رب کا شریک ٹھہراتا تھا اور نبی کا انکار کرتا تھا یا یہ مطلب ہے کہ وہ کہتاہے میں یہ باتیں جاننے کے قابل نہ تھا جھوٹا ہے یہ عاقل بالغ تھا۔ ۲۵؎ یہ تنگیٔ قبر جو خدا کا عذاب ہے صرف کافر کے لیے ہے،بعض گنہگارمسلمانوں بلکہ نیک کاروں کوبھی تنگیٔ قبر ہوتی ہے مگر وہ خدا کی رحمت ہے جیسے ماں پیار سے بچے کو گود میں دباتی ہے جس سے بچہ گھبراتاہے۔یہ پوری بحث عذاب قبر میں گزر چکی۔ ۲۶؎ تاکہ میری رسوائی نہ ہو اور مجھے جہنم میں نہ جانا پڑے جس کا عذاب یہاں سےسخت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ کافر قیامت اور وہاں کے حالات کوجانتاہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو نبوت کی خبر ہی نہ پہنچی ان کے لیے حساب قبر نہیں۔ ۲۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن کے مرنے اور اس کے اچھے خاتمہ کو سارے فرشتے دیکھتے اور جانتے ہیں خواہ آسمانی فرشتے ہوں یا درمیانی،لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو سارے مخلوق میں بڑے عالم ہیں بھی،ہرشخص کی موت اور اس کے خاتمہ سے خبردار ہیں اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت میں مؤمنوں کے ایمان بلکہ ان کے مراتب ایمان کی بھی گواہی دیں گے اور مؤمنوں کی شفاعت کریں گے،اگر آپ کو لوگوں کے ایمان و کفر کی ہی خبر نہ ہو تو یہ کام کیسے کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ ہر روح کے لیے آسمان سے جانے کا دروازہ مقرر ہے جس کی فرشتوں کوبھی خبر ہے،غازیوں کے لیے اور دروازہ ہے،حاجیوں کے لیے اور،نمازیوں کے لیے اور،صحابیوں کے لیے اور مگر پھربھی ہر دروازہ کے فرشتوں کا یہ دعاکرنا اظہار اشتیاق کے لیے ہے نہ کہ بے خبری کی وجہ سے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداﷲ ابن ابی کو اس کے مرے بعد اپنی قمیص پہنائی،نماز جنازہ پڑھائی اگرچہ جانتے تھے کہ یہ جہنمی ہے۔ ۲۸؎ یعنی کھلوانے پرکھولے نہیں جاتےجیساکہ اوپرگزر چکا،ورنہ آسمان کے دروازے ہر وقت بندہی رہتے ہیں ضرورۃً کھلتے ہیں۔خیال رہے کہ آسمان میں بے شمار دروازے ہیں:بعض سے رزق اترتے ہیں،بعض سے عذاب،بعض سے فرشتے،بعض سے مرنے والوں کی روحیں اندر جاتی ہیں،ایک دروازہ وہ بھی ہے جو خاص حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معراج میں جانے کے لیے تھا وہ پہلے نہ کسی کے لیے کھلا تھا،نہ پھر بعد میں کسی کے لئے کھلے،اسی لیے حدیث معراج میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جبریل امین گئے دروازہ کھلوایا تو دربان نے پوچھا کہ تم کون ہو تمہارے ساتھ کون ہے اگر یہ بھی کوئی عام دروازہ ہوتا تو اس سوال کے کیا معنی تھے۔