Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
828 - 993
حدیث نمبر828
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑکر فرمایا دنیا میں یوں رہو گویا تم مسافر ہو یا راستہ طے کرنے والے ہو ۱؎ حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ جب تم شام پالو تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح پالو تو شام کی امید نہ رکھو اور اپنی تندرستی سے بیماری کے لیئے اور زندگی سے موت کے لیئے کچھ توشہ لے لو۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی جیسے مسافر منزل اور وہاں کی زیب و زینت سے دل نہیں لگاتاکیونکہ اسے آگےجانا ہوتاہے ایسے ہی تم یہاں کے انسان اور سامان سے دل نہ لگاؤ،ورنہ مرتے وقت ان کے چھوٹنے سے بہت تکلیف ہوگی۔صوفیاءجو فرماتے ہیں کہ "حُبُّ الْوَطنِ مِنَ الْاِیْمَانِ"یعنی وطن کی محبت ایمان کا رکن ہے وہاں وطن سے مراد جنت ہے یعنی اصلی وطن یا مدینہ منورہ کہ وہ مؤمن کا روحانی وطن ہے۔

۲؎ حضرت ابن عمر یہ اپنے نفس سے خطاب کرتے تھے کہ زندگی کی لمبی امیدیں نہ باندھو ہرنماز آخری نمازسمجھ کر پڑھو،تندرستی اور زندگی کو غنیمت جانو جس قدر ہوسکے اس میں نیکیاں کمالو،ورنہ بیماری میں اورموت کے بعد کچھ بن نہ پڑے گا۔شعر

کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں		جب بڑھاپا آگیا پھربات بن پڑتی نہیں

ہے بڑھاپابھی غنیمت جب جوانی ہوچکی	یہ بڑھاپابھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
Flag Counter