| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے وہ بیان کیاکرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا کہ یا اس سے راحت حاصل کی گئی ۱؎ یا راحت پاگیا لوگ بولے یارسول اﷲ راحت پانے والے اور اس سے چھوٹنے والے سے کیا مطلب فرمایا کہ یہ بندہ مؤمن دنیا کی تکلیف اور اذیتوں سے چھوٹ کر اﷲ کی رحمت میں جاتا ہے۲؎ اور بدکار بندے سے انسان،شہر،درخت اور جانور سب ہی راحت پاتے ہیں۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی عاقل بالغ میت ان دو قسموں سے خالی نہیں یا وہ مرکر دنیا سے راحت پاتا ہے کہ یہاں کے تشریعی وتکوینی احکام سے چھوٹ جاتاہے یا دنیا اس سے راحت پاتی ہے۔ ۲؎ حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ میں موت پسندکرتا ہوں اپنے رب سے ملاقات کے لیئے،بیماری پسندکرتا ہوں خطائیں مٹانے کے لیئے اورفقیری پسندکرتا ہوں تواضع اور انکسار پیداکرنے کے لیئے۔ ۳؎ یعنی بدکار بندہ خواہ کافرہویا فاسق مسلمان اس کی بدکاری کی وجہ سے بارشیں نہیں آتیں یا سیلاب آتے ہیں،زمین میں لڑائیاں فساد ہوتے ہیں جس سے سارے جانوروں،درختوں وغیرہ کو تکلیف ہوتی ہے اسی لیئے مؤمن صالح کی موت پر آسمان اور زمین روتے ہیں،رب فرماتاہے:"فَمَا بَکَتْ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ"اور فاجر کے مرنے پر یہ سب خوش ہوتےکیونکہ اس کی بدعملیوں سے سب مصیبت میں تھے،رب فرماتاہے:"ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِی النَّاسِ"یہ حدیث ان آیتوں کی تفسیر ہے۔