| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اﷲ سے ملنا چاہتاہے اﷲ اس سے ملنا چاہتاہے اور جو اﷲ سے ملنا نہیں چاہتا اﷲ اس سے ملنا نہیں چاہتا اﷲ اس سے ملنےکو ناپسند کرتاہے ۱؎ تب حضرت عائشہ یاحضور کی بعض بیویوں نے کہا کہ ہم تو موت سے گھبراتی ہیں۲؎ تو فرمایا کہ یہ مطلب نہیں لیکن جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اسے اﷲ کی رضا اور اسکے احترام کی بشارت دی جاتی ہے تب اسے کوئی چیز اگلے جہان سے پیاری نہیں ہوتی اس پر وہ اﷲ سے ملنا چاہتاہے اﷲ اس سے ملنا چاہتا ہے۳؎ اور کافرکو جب موت حاضرہوتی ہے تو اسے اﷲ کے عذاب و سزا کی خبردی جاتی ہے تب اسے اگلے جہان سے زیادہ کوئی شے ناپسند نہیں ہوتی لہذا وہ اﷲ سے ملنا ناپسندکرتا ہے اور اﷲ اس سے ملنا ۴؎(مسلم،بخاری)اورحضرت عائشہ کی روایت میں ہے کہ موت اﷲ کے ملنے سے پہلے ہے ۵؎
شرح
۱؎ یہاں اﷲ کو ملنے سے مرادموت ہے کیونکہ موت ہی خدا سے ملنے کا ذریعہ ہے یعنی منہ سے موت مانگنا منع مگر اسے پسندکرنا اچھا۔پسند کرنے کے یہ معنی ہیں کہ دنیا میں دل نہ لگائے اور آخرت کی تیاری کرے،ایسے بندے کو رب پسند کرتاہے،اس کی زندگی بھی خداکو پیاری ہے اور موت بھی،ہر ایک کی زندگی،موت خدا کے ارادے سے ہی ہے مگر اس کی زندگی اورموت رب کے ارادے سے بھی ہے اور اس کی رضا سے بھی،ارادے اور رضا میں بڑا فرق ہے۔ ۲؎ جان کنی کی شدت اور اس کی سختیوں کی وجہ سے،نہ اس لیئے کہ دنیا ہمیں پیاری ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج خصوصًا حضرت عائشہ صدیقہ نے دنیا کی لذتیں دیکھی ہی کہاں،فقروفاقہ میں نہایت سادہ زندگی گزاری،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک پائی میراث نہ ملی،اٹھارہ سال کی عمرشریف میں بیوگی کی چادر اوڑھ لی اور۵۳ سال کی عمر شریف یونہی گزاری رضی اللہ عنہاوعنھن۔ ۳؎ یہ تو عام مؤمنوں کا حال ہے،خواص کو جان کنی کے وقت جمال مصطفی دکھا دیا جاتا ہے،ان کی اس وقت کی خوشی بیان سے باہر ہے،پھر انہیں جانکنی قطعًا محسوس نہیں ہوتی،روح خودبخودشوق میں جسم سے نکل آتی ہے جیساکہ بارہا دیکھا گیا۔ ۴؎ چنانچہ کافرکو موت کے وقت میں تین مصیبتیں جمع ہوجاتی ہیں:دنیا چھوٹنے کا غم،آئندہ مصیبتوں کاخوف،جان نکلنے کی شدت۔غرضکہ مؤمن کی موت عید ہے اور کافر کی موت مصیبت اسی لیئے اولیاءاﷲ کی موت کو عرس کہا جاتا ہے یعنی شادی۔۵؎ یعنی موت پہلےہے،رب سے ملنا بعدمیں لہذا اس وقت کی پسند و ناپسند ملاقات رب سے پہلے ہی کی پسندیدگی و ناپسندیدگی ہے۔