۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی شرح ہے کہ بیماری و آزاری سےگھبراکرموت نہ مانگے اورجس طریقہ سے دعا کی اجازت دی گئی ہے نہایت ہی پیارا طریقہ ہےکیونکہ اس خیروشرمیں دین و دنیا کی خیروشرشامل ہےگویا موت کی تمنا کہہ بھی لی مگر قاعدے سے۔خیال رہے کہ یہ کہنا جائز ہے خدایا مجھے شہادت کی موت دے،خدایا مجھے مدینہ پاک میں موت نصیب کر۔چنانچہ عمر فاروق نے دعا کی تھی کی مولا مجھے اپنے حبیب کے شہرمیں شہادت نصیب کر،حضرت حفصہ نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکے گا تو آپ نے فرمایا ان شاءاﷲ ایسے ہی ہوگا۔چنانچہ مسجد نبوی محراب النبی نماز کی حالت میں مصلّائےمصطفی پر آپ رضی اللہ عنہ کو کافرمجوسی ابو لولو نے شہید کیا۔دعاءکیاتھی کمان سے نکلا ہوا تیر تھا کہ جو کہا تھا وہی ہوا،کیوں نہ ہو رب کی یہ مانتے ہیں رب ان کی مانتاہے۔