۱؎ احادیث کی شرح آگے آرہی ہےکہ دنیوی تکالیف سےگھبرا کر موت نہ مانگے کہ اس میں بے صبری ہے اور خدا کی بھیجی مصیبت پر ناراضی،ہاں دینی خطرات کے موقع پر تمنائے موت بھی جائزہے اور دعائے موت بھی۔
۲؎ یعنی زندگی کا زمانہ تخم بونے کا زمانہ ہے جو کچھ بوئے گا آگے چل کر کاٹےگا۔بدکار اگر توبہ کرے گا تو اسی زندگی میں،نیک کارنیکیاں بڑھائے گا تو اسی زندگی میں۔خیال رہے کہ بعض مؤمن قبرمیں بھی نمازیں پڑھتے ہیں،تلاوتِ قرآن بھی کرتے ہیں مگر ان اعمال پر ثواب نہیں صرف روحانی لذت ہے جیسے فرشتوں کے اعمال پرثواب نہیں بلکہ ان سے ان کی بقا اورلذت ہے،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں قبر کی عبادتوں کا ذکر ہے اسی لیے مُردوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں کہ زندگی کے عمل پرثواب ملتا ہے جو انہیں بخشاجاتاہے۔