۱؎ موت کی آرزو اچھی بھی ہے اور بری بھی،اگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے لیے یا دنیاوی فتنوں سے بچنے کے لیے موت کی تمناکرنا ہے تو اچھاہے اور اگر دنیوی تکالیف سےگھبرا کرتمنائے موت کرے تو بُرا۔موت کی یاد بہترین عبادت ہے خصوصًا جب اس کے ساتھ تیاریٔ موت ہو۔
حدیث نمبر823
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے نیک کار تو اس لیئے کہ شاید وہ نیکیاں بڑھالے اور بدکار اس لیئے کہ شاید وہ توبہ کرے ۱؎ (بخاری)
شرح
۱؎ یعنی مؤمن کی زندگی بہرحال اچھی ہے کیونکہ اعمال اسی میں ہوسکتے ہیں۔