Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
821 - 993
حدیث نمبر821
روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ شہید اور اپنے بستروں پر مرنے والے اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں ان کے متعلق جھگڑتے ہیں جو طاعون میں فوت ہوئے ۱؎ شہید تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں ہماری طرح یہ بھی قتل ہوئے اور ویسے مرنے والے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے بستروں پر ہماری طرح فوت ہوئے رب فرماتاہے کہ ان کے زخم دیکھو اگر ان کے زخم مقتولوں کی طرح ہوں تو یہ ان ہی سے ہیں ان ہی کے ساتھ ہیں دیکھاتو ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہیں۲؎(احمد،نسائی)
شرح
۱؎ مؤمن کے مرنے پر اس سے ملاقات کرنے گزشتہ مؤمنین کی روحیں آتی ہیں اورجس قسم کا یہ شخص ہوتا ہے اسی جماعت کے لوگ اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ولی کی روح کو اولیاء،شہید کی روح کو شہداء۔غرضکہ تاقیامت بلکہ بعد قیامت جنت میں بھی ہر روح اپنے ہم جنسوں کے ساتھ رہے گی۔

۲؎ طاعون میں بغل یا جنگا سے پرگلٹیاں نکلتی ہیں جو پھوٹ کر زخم بن جاتی ہیں،ان میں ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسےکوئی برچھیاں ماررہا ہے بلکہ جنات برچھیاں مارتے بھی ہیں اسی لیے اس کو طاعون کہتے ہیں۔بعدموت ان کے یہ زخم شہداء کے زخموں کی طرح قرار دیئے جائیں گے اور ان لوگوں کو شہیدوں کے ساتھ رکھا جائے گا۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہوا کہ موت کے بعدبھی قیاس ہوگا قیاس کے منکر اس سے کہاں تک بچیں گے۔
Flag Counter