| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک وہ شخص فوت ہوگیا جو وہاں ہی پیدا ہوا تھا ۱؎ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور فرمایا کاش یہ پیدائش کی زمین کے سوا کہیں اور فوت ہوتا لوگوں نے کہا یارسول اﷲ یہ کیوں فرمایا کہ بندہ جب غیر ولادت گاہ میں مرتا ہے تو اس کی ولادت گاہ سے آخری نقش قدم تک ناپ کر جنت سے دیا جاتاہے ۲؎(نسائی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ پیدائش کی قید مدنی اور غیر مدنی میں فرق کرنے کے لیے ہے یعنی مسافرت کی موت وطن کی موت سے افضل ہے،ورنہ تمام علماء اس پرمتفق ہیں کہ مدینہ منورہ کی موت مکہ معظمہ میں موت سے بھی افضل ہے۔ ۲؎ یعنی اس کی قبر اتنی کشادہ کی جاتی ہے جیسے ولادت گاہ سے موت کی جگہ تک کا فاصلہ اور اس سارے میدان میں جنت کا باغ ہوتاہے یعنی یہاں قبر کا ذکرہے ورنہ جنت میں معمولی جنتی کی ملکیت ساری روئے زمین سے زیادہ ہوگی۔(مرقاۃ ولمعات)یا مطلب یہ ہے کہ اسے جنت میں اس عمل کے عوض ایک مکان اتنا وسیع دیاجائے گا اگرچہ اوربھی زمین اس کی ملک ہوگی۔