| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی تو فرمایا تیرا دل کیا چاہتا ہے وہ بولا گیہوں کی روٹی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو وہ اپنے اس بھائی کو بھیج دے ۱؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارا بیمار کچھ چاہے تو اسے کھلا دو ۲؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ اﷲ اکبر! صحابہ کرام کے فقرو قناعت میں غورکرو کہ نہ بیمار کے گھر گیہوں کی روٹی ہے نہ خود سرکار کے ہاں اس لیے اعلان کرنا پڑا کہ اگرکسی کے ہاں گیہوں کی روٹی کا ٹکڑا ہو تو ان کے لیےبھیجو اور آج ان کے طفیل ان کے نام لیوا نعمتیں کھارہے ہیں۔شعر بوریا ممنون خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے امتش ۲؎ سبحان اﷲ! کیا حکیمانہ حکم ہے۔بیمار کا دل جس چیز کی سچی خواہش کرے اسی میں اس کی شفا ہوتی ہے بشرطیکہ خواہش سچی ہو،جھوٹی خواہش نقصان دہ ہے،سچی اورجھوٹی خواہش کا فرق طبیب کرسکتا ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں مایوس بیمار مراد ہے یعنی جب بیمار کی زندگی کی امید نہ رہے تو اسے پرہیز نہ کراؤ جو مانگے دے دو تاکہ دنیا سے ترستا ہوا نہ جائے۔