۱؎ رحمت ومہربانی کی آگ،اسی لیے اس آگ کو اپنی طرف منسوب فرمایا اور اس کے لیے مؤمن کو خاص کیا،جو آگ گناہ جلادے وہ رحمت ہی ہے،عشق و محبت کی،خوف خدا کی آگ بھی آگ ہے جو ماسواے اﷲ کو پھونک دیتی ہے۔
۲؎ چنانچہ ابن ابی دنیا،ابن جریر،ابن منذر،ابن بی حاتم اوربیہقی نے شعب الایمان میں حضرت مجاہد سے آیت کریمہ "وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا"کی تفسیر یوں ہی نقل کی کہ بخار مؤمن کے لیے جہنم کی آگ کا حصہ ہے،امام حسن سے مرفوعًا نقل ہے کہ ہر آدمی کے نصیب میں آگ کا حصہ ہے مگر مؤمن کی آگ بخار ہے جوکھال جلا دیتا ہے اور دل محفوظ رکھتا ہے۔مؤمن سے مراد مؤمن کامل ہے،ورنہ بعض بخار والے مسلمان بھی کچھ روز کے لیے جہنم میں جائیں گے۔