| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ثوبان سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سےکسی کو بخار آئے ۱؎ تو بخار آگ کا ٹکڑا ہے اسے پانی سے بجھائے کہ جاری نہر میں غوطہ لگائے اس کے بہاؤ کی طرف منہ کرے پھر کہے بسم اﷲ الٰہی اپنے بندےکو شفا دے اور اپنے رسول کو سچا کردے یہ فجرکی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کرے تین دن تک تین غوطے لگایاکرے اگر اس میں تندرست نہ ہو تو پانچ دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو سات دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو نو دن بحکم الٰہی یہ بخار نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یہ خطاب اہلِ عرب کو ہے جنہیں اکثر صفراوی بخار آتے تھے جس میں غسل مفید ہوتا ہے۔ہم لوگ اس پر بغیر حاذق حکیم کے مشورے کے عمل نہ کریں کیونکہ ہمیں اکثر وہ بخار ہوتے ہیں جن میں غسل نقصان دہ ہے اس سے نمونیہ کا خطرہ ہوتا ہے،ہاں کبھی ہم کوبھی بخار میں غسل مفید ہوتا ہےحتی کہ ڈاکٹر مریض کے سر پر برف بندھواتے ہیں۔ ۲؎ صفراوی بخار کے لیے یہ عمل اکسیر ہے جس پرکبھی حکیم عمل کرتے ہیں مگر یہ عمل تیزگرمی میں صفراوی بخار میں طبیب کی رائے سے کیا جائے۔مرقات نے فرمایا کہ ایک شخص نے ترجمہ حدیث دیکھ کر اپنے پر اسے آزمایا نمونیہ ہوگیا بمشکل بچا تو وہ حدیث کا ہی منکر ہوگیا حالانکہ اس کی اپنی جہالت تھی۔