Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
797 - 993
حدیث نمبر 797
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو کچھ درازیٔ حیات کی بات کرکے اس کا غم دور کرو ۱؎ کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رد نہ کرے گی اور اس کا دل خوش ہوجائیگا۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ نَفِّسُوْا تَنْفِیْس سے بنا،بمعنی تفریح یعنی غم دورکرنا،بیمارکو ڈراؤ نہیں کہ تو بچے گا نہیں مرض بہت سخت ہے بلکہ کہو ان شاءاﷲ شفا ہوگی گھبراؤ نہیں،بعض طبیب مریض کے آخر دم تک ہمت بندھانے والی باتیں کرتے ہیں،اسے مایوس نہیں ہونے دیتے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اس کا نام دھوکا دہی نہیں بلکہ اسے تسکین کہتے ہیں۔مایوس بیمارکی ہمت ٹوٹ جاتی ہے جس سے وہ اور زیادہ نڈھال ہوکر بہت تکلیف اٹھاتا ہے۔

۲؎ یعنی تمہارے ڈھارس بندھانے سے اس کی ہمت بڑھ جائے گی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ موت کے وقت میت کو وضو،مسواک کرادینا،خوشبو لگادینا مستحب ہے اس سے جانکنی آسان ہوتی ہے بلکہ اگر ممکن ہو تو اس وقت اسےغسل کرادو،عمدہ کپڑے پہنادو،اگر ہوسکے وہ دو۲رکعت نفل نماز وداع کی نیت سے پڑھے،یہ باتیں حضرت سلمان فارسی،حضرت خبیب اور حضرت سیدہ فاطمہ الزہراہ سے منقول ہیں کہ انہوں نے بوقت وفات یہ اعمال کیے یہ سب یَطِیْبُ بِنَفْسِہٖ میں داخل ہیں کہ اس سے میت کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔
Flag Counter