| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عامر رام ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ مؤمن کو جب بیماری پہنچتی ہے پھر اﷲ اسے آرام دے دیتا ہے تو یہ گزشتہ گناہوں کاکفارہ بن جاتی ہے اور آیندہ کے لیئے نصیحت۲؎ اورمنافق جب بیمار ہوتا ہے پھر آرام دیا جاتا ہے تو اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے مالکوں نے باندھ دیا پھرکھول دیا وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا۳؎ تو ایک شخص بولا یارسول اﷲ بیماریاں کیا ہیں قسم رب کی میں تو کبھی بیمارا ہوا ہی نہیں تو فرمایا ہمارے پاس سے ہٹ جاؤ تم ہم میں سے نہیں۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،نام عامر ہے،تیراندازی کرتے تھے اس لیے رام لقب ہوا،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے بسند مجہول۔ ۲؎ کیونکہ مؤمن بیماری میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرےکسی گناہ کی وجہ سے آئی اور شاید یہ آخری بیماری ہوجس کے بعدموت ہی آئے اس لیے اسے شفاء کے ساتھ مغفرت بھی نصیب ہوتی ہے۔ ۳؎ بلکہ منافق غافل یہی سمجھتا ہے کہ فلاں وجہ سے میں بیمار ہوا تھا اور فلاں دوا سے مجھے آرام ملا،اسباب میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ مسبب الاسباب پرنظر ہی نہیں جاتی،نہ توبہ کرتا ہے،نہ اپنے گناہوں میں غور۔ ۴؎ یہ شخص منافق تھا جس کا کفر پرمرناحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں تھا اس لیئے اس سختی سے اسے یہ جواب دیا۔بعض روایات میں ہے کہ اس موقعہ پر یہ بھی فرمایا کہ جو دوزخی کو دیکھنا چاہے وہ ا سے دیکھ لے۔(مرقاۃ)ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سراپا اخلاق ہیں محض بیمار نہ ہونے پر ایسی سختی نہ فرماتے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو رب نے لوگوں کے اچھے برے انجام کی خبردی ہے،حالانکہ یہ علوم خمسہ سے ہیں۔دوسرے یہ کہ کفار پرسختی کرنا ہی اخلاق ہے رب فرماتا ہے:"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔سانپ کا سر کچلنا ہی اخلاق حسنہ ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کفار پر نرمی برتی ہے جن کے ایمان کی امیدتھی،آج کل لوگوں نے اخلاق کے معنی غلط سمجھے ہیں۔